اصحاب احمد (جلد 10) — Page 431
431 کی غور و پرداخت کرتے ہیں آپ ان کو اس کے متعلق بتادیں پھر میں ہمیشہ میر صاحب سے اس بارے میں بات کرتا اور باغ کی مزید ترقی وشادابی کے وسائل اختیار کرتا تھا اور آپ کی منشاء کے مطابق ہر قسم کے تخم بھجواتا تھا۔پھل دار پودوں میں سے انجیر، انار سنگترہ، اور شہتوت وغیرہ کے پودے بھجوائے تھے۔مولوی محب الرحمن صاحب بیان کرتے ہیں کہ والد صاحب نے ایک دفعہ اپنے باغ کے غالباً دو ٹوکرے انجیر کے حضور کی خدمت میں بھیجے۔پھر حضرت میر صاحب نے والد صاحب کو بتایا کہ حضور نے انجیر بہت پسند فرمائے تھے۔اس پر والد صاحب نے انجیر کی جڑھیں اور پور میر صاحب کی خدمت میں بھیجے جو بار آور ہو گئے تھے۔(۱۱) حضور کا قرآن مجید سننا: حضرت مفتی محمد صادق صاحب بیان فرماتے ہیں کہ : میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صرف ایک دفعہ روتے دیکھا ہے۔اور وہ اس طرح کہ ایک دفعہ آپ اپنے خدام کے ساتھ سیر کے لئے تشریف لے جارہے تھے۔اور ان دنوں میں منشی حبیب الرحمن صاحب حاجی پورہ والوں کے داماد قادیان آئے ہوئے تھے کسی شخص نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ حضور ! یہ قرآن شریف بہت اچھا پڑھتے ہیں۔حضرت صاحب وہیں راستہ کے ایک طرف بیٹھ گئے۔اور فرمایا کہ کچھ قرآن شریف پڑھ کر سنا ئیں۔چنانچہ انہوں نے قرآن شریف سنایا تو اس وقت میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات پر میں نے بہت غور سے دیکھا مگر میں نے آپ کو روتے نہیں پایا۔حالانکہ آپ کو مولوی صاحب کی وفات کا نہایت سخت صدمہ تھا۔سیرة المحمدی حصہ دوم ( روایت ۴۳۳) شیخ عبدالرحمن صاحب اپنے مکتوب محرره ۱۸ مارچ ۱۹۸۰ء میں یہ وضاحت تحریر کرتے ہیں :۔مہاراجہ ریاست کپور تھلہ کی بہت بڑی جائیداد اور ضلع بہرائچ میں تھی اور ایک اعلیٰ افسر اس کا منیجر تھا اور وہاں بہت سے دفاتر اس کے انتظام کے تھے۔حافظ فضل الرحمن صاحب برا در کلاں والد منشی حبیب الرحمن صاحب منیجر کے دفتر میں اہلمد تھے۔حافظ فضل الرحمن صاحب کے بڑے بیٹے حافظ محبوب الرحمن صاحب کی رہائش حاجی پور میں تھی اور ہمارے والد صاحب کا ہاتھ ان کی اراضی کے انتظام میں بٹاتے تھے ہمارے والد صاحب نے انہیں قرآن مجید حفظ کروایا اور وہ کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور اخبارات سلسلہ احمدیہ کا مطالعہ کرتے رہے۔بالآخر انہوں نے احمدیت قبول کرلی۔اس پر ان کے والد آگ بگولہ ہو گئے۔کیونکہ وہ شدید معاند احمدیت تھے۔حافظ محبوب الرحمن صاحب