اصحاب احمد (جلد 10) — Page 372
372 بھی دی جاتی ہے۔جاتے ہیں۔چهارم- قرآن کریم کے وقائق و معارف جدیدہ ولفائف و خواص عجیبہ سب سے زیادہ اس پر کھولے حضور فرماتے ہیں کہ پنجاب کے صدر مقام لاہور میں اس مقالہ کے بارے حقائق وغیرہ جمع کرنے کے لئے ایک انجمن ( کمیٹی ) مقرر کر لی جائے جو کچھ فریقین کے پاس بذریعہ کشف والہام ظاہر ہو اس اس طرح اس انجمن کے پاس اطلاع دی جائے جس کی رسید تفصیل مرسلہ کے ساتھ کشف والہام بھجوانے والے کو بھجوائی جائے امر اول و دوم کے بارے اطلاعت کو مخفی کیا جائے امر سوم کے بارے یہی انجمن مصیبت زدگان کی فراہمی اور تاریخ مقررہ پر ان کے حاضر ہونے کے لئے چند ہفتے پہلے اشتہارات شائع کرے گی ان کی تقسیم فریقن میں کی جائے گی۔ان اشتہارات کا خرچ میرے ذمہ ہوگا۔پھر بذریعہ قرعہ اندازی ان مصیبت زدگان کی تقسیم فریقین میں کی جائے گی۔اور ہر فریق اپنے حصہ کے ایسے افراد کے لئے سال پھر دعا کرتا رہے گا کثرت استجابت دعا سے عند اللہ مقبولیت کا علم ہوگا۔حضور تحریر فرماتے ہیں۔وو در حقیقت خدا تعالے کا پاک قانون قدرت یہی ہے کہ تمام امور مقبولوں کے ہی اثر وجود سے ہوتے ہیں اور ان کے انفاس پاک سے اور ان کی براکات سے یہ جہان آباد ہو رہا ہے انہیں کی برکت سے بارشیں ہوتی ہیں اور فسادمٹائے جاتے ہیں۔اور انہیں کی برکت سے دنیا میں امن رہتا ہے اور وبائیں دفعہ ہوتی ہیں۔اور انہیں کی برکت سے دنیا دار لوگ اپنی تدابیر میں کامیاب ہوتے ہیں۔اور انہیں کی برکت سے چاند نکلتا اور سورج چمکتا ہے وہ دنیا کے نور ہیں۔جب تک وہ اپنے وفود ، نوعی کے لحاظ سے دنیا میں ہیں دنیا منور ہے اور ان کے وفود نوعی کے خاتمہ کے ساتھ ہی دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا کیونکہ حقیقی آفتاب و ماہتاب دنیا کے دہی ہیں۔اگر چه مومن کامل کا فیض تمام دنیا میں جاری وساری ہوتا ہے لیکن جولوگ خاص طور پر ارادت اور عقیدت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں وہ نہ صرف اس کی برکت سے دنیا کی مرادات پاتے ہیں بلکہ اپنا دین بھی درست کر لیتے ہیں اور اپنے ایمانوں کو قومی کر لیتے ہیں۔اور اپنے رب کو پہچان لیتے ہیں۔اور اگر وہ وفاداری سے مومن کامل کے زیر سایہ پڑے رہیں اور درمیان سے بھاگ نہ جائیں تو بکثرت آسمانی نشانوں کو دیکھ لیتے ہیں۔معارف قرآن کے مقابلہ میں ہر ایک فریق چند آیات قرآئینہ کے حقائق ومعارف انجمن میں جلسہ عام