اصحاب احمد (جلد 10) — Page 367
367 حضرت! وہ آپ کی بات کو نہیں مانتا۔چونکہ یہ بات خلاف تحریر کے تھی اس لئے ہم میں سے ایک نے کہا کہ آپ میاں صاحب کو خط سنا دیں آپ خلاف تحریر کے کیوں فرماتے ہیں۔اس پر محمد حسین نے کہا کہ تم قاصد ہو تم کو بولنے کا حق نہیں ہے۔جواب طلب کیا تو کہا کہ تم جاؤ ہم جواب بھیج دیں گے۔۔”میاں صاحب نے اس وقت غیظ و غضب میں اور جوش کے ساتھ بات کی۔یہ ایک عجیب حالت تھی جس کو تحریر میں لانا مشکل ہے۔میاں صاحب غصہ ( میں ) خود بخودہی بول رہے تھے۔جوش میں آ کر گھٹنوں کے بل نیم ایستادہ ہو گئے ہاتھ آگے کر کے کہا۔یوں کاغذی گھوڑے دوڑاتا ہے۔سامنے آ کر دو بدو بات کرے تو معلوم ہو۔ہم کو تو اس حالت پیرانہ سالی میں جس کے ساتھ ضعف بھی تھا اور پھر عالم اور ایک گروہ کے مقتدا اور جوش غضب کی یہ کیفیت۔حضرت صاحب سامنے موجود نہ تھے ، اگر سامنے ہوتے تو خدا جانے کیا کچھ کر گذرتے اور کچھ نہیں تو حضور کے اوپر گر پڑتے (یعنی بوجہ ضعف و پیرانہ سالی۔ناقل ) علماء دین کی یہ حالت دیکھ کر افسوس ہوا۔ہے تعجب آپ کے اس جوش پر عقل پر اور فہم پر اور ہوش پر ”ہم نے خاموش بیٹھ کر یہ تماشا دیکھا۔کچھ امن ہوا تو مولوی محمد حسین ہماری طرف متوجہ ہوئے اور نوبت بنوبت ہم سے ہمارا نام اور سکونت دریافت کی۔میری نوبت آخر میں آئی۔جب میں نے اپنا نام اور کپورتھلہ سکونت بتلائی تو فرمایا کہ آپ ہمارے رسالہ اشاعۃ السنہ کے بھی تو خریدار ہیں۔میں نے عرض کیا کہ ہاں میں خریدار ہوں۔پھر بڑی توجہ سے فرمایا پھر آپ تو بہت سمجھدار آدمی ہیں آپ کس طرح ان کے ساتھ پھنس گئے۔میں نے عرض کیا کہ اسی طرح کہ میں سمجھدار ہوں اس پر دو تین دفعہ اچھا اچھا کہا اور پھر کہا کہ پھر باتیں کریں گے میں نے کہا کہ اس سے بہتر وقت تو پھر شاید نہ مل سکے اب ہی باتیں کر لیں۔خاموش ہو گیا۔ہم سب بلا جواب کے چلے آئے اور ظہر (و) عصر کی نمازیں جمع کر کے حضرت علیہ السلام جامع مسجد کو سواری میں تشریف لے گئے مسجد کا درمیانی دروازہ جو ایک دالان کے برابر چوڑا ہے وہاں سب بیٹھ گئے ، جنوب کی دیوار سے تکیہ لگا کر حضور علیہ السلام تشریف فرما ہوئے اور ( حضور کے گرد ہم خادمان حلقہ کر کے بیٹھ گئے حفاظت اور امن کے واسطے پولیس کو اطلاع دے دی گئی تھی کچھ دیر بعد یورپین سپرنٹنڈنٹ پولیس مع سپاہیوں کے آگئے۔اس نے دروازہ کے اندر باہر کی طرف لائن بنا کر سپاہیوں کو کھڑا کر دیا۔اس طرح ہم درمیان میں آگئے باہر لائن میں۔خود بھی کھڑا ہو گیا اور حکم دے دیا کہ جو شخص اندر آنا چاہے پہلے مرزا صاحب سے اجازت لے کر اندر آنے دو۔”میاں صاحب بھی ڈولی میں بیٹھ کر تشریف لائے ان کے ہمراہ مولوی محمد حسین (صاحب) اور بہت سے مولوی تھے۔شرائط کے متعلق انہوں نے پھر بات شروع کر دی۔کبھی کہتے کہ ہم تمہارے عقیدہ کے متعلق بحث کریں گے