اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 365 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 365

365 تھا کہ تم بھی دعا کرو اور ہم بھی دعا کریں تا مقبول اور اہل حق کی تائید میں آسمانی نشان ظاہر ہو لیکن مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اس طرف رخ بھی نہ کیا۔آپ اکابر جلیل القدر صوفیاء اور صاحب عرفان اور صاحب سلسلہ اور مشاہیر علماء میں سے ہیں۔آپ سے بڑھکر اور کس کا حق ہے کہ ظاہری اور باطنی طور پر مرزا صاحب سے مقابلہ کریں اور حیات مسیح اور بجسم عنصری آسمان پر اٹھائے جانے اور آخری زمانہ میں آسمان سے نزول کے بارے میں دلائل قاطعہ اور نصوص صریحہ اور احادیث صحیحہ پیش کریں اور باطنی طور پر کچھ کرامات بھی دکھا ئیں۔آپ مدعوین نے بھی مقابلہ سے گریز کیا تو ہم سخت مخالف بن کر آپ کی اس شکست کی تشہیر کریں گے اور اخبارات میں اس امر کی اشاعت کا وعدہ حلفاً ہم مرزا صاحب سے کر چکے ہیں۔ہم نے مرزا صاحب سے لکھوا لیا ہے، جس کی نقل آپ کی خدمت میں بھیجی جاتی ہے۔اور ہم نے حلفاً وعدہ کر لیا ہے کہ آپ مدعوین بحث کے لئے ضرور تشریف لائیں گے۔ایسے نازک وقت میں کہ لوگ جوق در جوق مرزا صاحب کی پیروی کرتے جاتے ہیں، اگر بزرگانِ دین ایسے امر میں کہ جس میں ہزاروں مسلمانوں کا ایمان تلف ہو کام نہ آئے تو کب آئیں گے؟ اگر مرزا صاحب نے گریز کیا تو ہم اس گریز کی تشہیر دس گنا زیادہ کریں گے۔ان داعیان مقابلہ میں ایک درجن افراد کپورتھلہ کے ہیں۔تیرہویں نمبر پر منشی حبیب الرحمن صاحب برادر زادہ حاجی ولی محمد صاحب حج مرحوم ساکن کپورتھلہ کا نام درج ہے۔* مباحثات دہلی ۱۸۹۱ء میں شرکت ہیں کہ :۔(۱) مباحثه مولوی سید نذیر حسین صاحب سے منشی حبیب الرحمن صاحب اس بارے تحریر کرتے دعوای مسیح موعود کے بعد جب حضور علیہ السلام دبلی تشریف لے گئے تو خاکسار کو بھی اطلاع آگئی تھی اس لئے میں بھی دہلی پہنچ گیا۔( قلمی کا پی صفحہ ۵۶) حضور نے ۲ اکتوبر ۱۸۹۱ء کو ایک اشتہار کے ذریعہ شیخ الکل سید نذیر حسین صاحب دہلوی اور شمس العلماء مولوی عبدالحق صاحب کو وفات مسیح کے بارے تحریری بحث کرنے کی دعوت دی۔مولوی صاحب نے تبلیغ رسالت جلد دوم ( صفحه ۶۵ حاشیه و غیره) یہ داعی احباب پنجاب کے مقامات کپورتھلہ ، لدھیانہ، پٹیالہ، سیالکوٹ، گورداسپور، گجرات وغیرہ کے علاوہ کشمیر، بلوچستان اور میسور کے ہیں۔