اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 354 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 354

354 چوٹ آئی تھی تب سب کو یقین ہو گیا کہ یہ گلٹی اس چوٹ کے باعث ہے۔پھر وہ تپ کا علاج کرنے لگے۔میں تو حضرت صاحب کے پاس چلا آیا وہ بھی نیاز حاصل کرنا چاہتے تھے۔میں ان سے کہہ گیا تھا کہ آپ وہاں آ جائیں جب وہ حضرت صاحب کی فرودگاہ پر آئے تو مجھ سے کہا کہ تم سچ کہتے تھے۔لڑکی کو طاعون نہیں ہے۔اس کو اب چیچک نمودار ہوگئی ہے۔“ زیارت حضرت اقدس کا وفور شوق (قلمی کاپی صفحه ۴۸ ۴۹ ) منشی حبیب الرحمن صاحب بکثرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔قادیان کے علاوہ جالندھر،لدھیانہ، امرتسر میں اور تمام مقدمات کی پیشیوں کے مواقع پر بہت سے مواقع کا ذکر اسی تالیف میں آیا ہے۔منشی کظیم الرحمن صاحب بیان کرتے ہیں کہ حاجی محمد ولی اللہ صاحب کی وفات کے بعد والد صاحب کو شرکاء اور کاشتکاروں کی طرف سے اپنے اصلی وطن اور ریاست کپورتھلہ میں مقدمات میں الجھایا گیا۔جس کی وجہ سے آپ شب وروز بھاگ دوڑ میں رہتے تھے۔ان مصروفیتوں کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کو یاد رہتے تھے۔آپ اکثر عیدین قادیان میں پڑھتے تھے۔حضور کے تمام مقدمات کی پیشیوں کے موقع پر آپ حاضر ہوتے تھے۔حضور کے زمانہ میں قادیان آنے کے لئے کوئی خاص وجہ ہی محرک نہ ہوتی تھی۔بلکہ بیٹھے بیٹھے جب حضور کی یاد نے جوش مارا، دار الامان کی (طرف) روانگی ہوگئی اور جب دربار نبوت سے اجازت ہوتی ، واپس جاتے بٹالہ اور قادیان کے درمیان کا گیارہ میل کا فاصلہ سفر کے لحاظ سے بہت کٹھن تھا۔چنانچہ منشی حبیب الرحمن صاحب کا بیان ہے کہ: مضمون منشی کظیم الرحمن صاحب تصدیق شدہ منجانب حضرت منشی ظفر احمد صاحب (الحکم ۷ اگست ۱۹۳۵ء صفحہ ۷- کالم ۳ و ۲۱ را گست- صفحہ ۷ کالم۲) منشی حبیب الرحمن صاحب نے بواسطہ شیخ عبدالرحمن صاحب بتایا کہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب، حضرت میاں محمد خاں صاحب ، حضرت منشی اروڑے خاں صاحب وغیر ہم ،سب با ہمی مشورہ سے اکٹھے قادیان جاتے تھے جب میں کپورتھلہ سے حاجی پور منتقل ہو گیا تو بھی کرتار پور کی ٹرین کی بابت اطلاع دیدی جاتی اور میں حاجی پور سے روانہ ہو کہ ان کا ہم سفر پھگواڑہ سے ہو جاتا۔