اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 334 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 334

334 حاجی صاحب کے ۲۲ جنوری ۱۸۸۵ء کے معذرت نامہ کے متعلق حضرت عرفانی صاحب یہ بھی رقم فرماتے ہیں:- ”حاجی صاحب نے آپ کی خدمت میں ایک خط لکھا جس میں انہوں نے اپنے اعتراضات کو واپس لے کر اظہار معذرت کیا۔اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ له محمد (الله) حضرت عرفانی صاحب کے مندرجہ بالانوٹ کے بعد جو کہ مَا قَلَّ وَدَلُّ کا مصداق ہے۔متذکرہ بالا چٹھی کا کچھ خلاصہ جملہ حالات اور حاجی صاحب کی قلبی کیفیت۔قارئین کرام پر مستحفر کرنے کے لئے پیش کرنا مناسب ہے۔اس عریضہ میں محترم حاجی صاحب بجز وانکسار سے عرض کرتے ہیں کہ خلاف ادب کوئی بات تحریر آیا زبانی میری طرف سے کہی گئی ہو تو یہ عاجز گنہگار اس کی معافی چاہتا ہے۔کیونکہ وہ وقت نادانی اور نا واقعی کا تھا۔براہین احمدیہ حصہ سوم وحصہ چہارم کو میں نے دین کی طرف لے جانے والا پایا۔دین قرآن شریف اور نبوۃ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے شیاطین ود جالین کے پیدا کردہ اثر کی بیخ کنی یہ کتاب زور وشور سے کرتی ہے۔اور باعث نزول برکات وانوار ہے۔ضروری تھا کہ دین حق کی محافظت اور مخالفین کے ہر طرح کے مقابلہ کے لئے اور لوگوں کو تزلزل سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ کسی کو کھڑا کرتا۔جب امتِ مسلمہ ہر جگہ انحطاط پذیر ہے۔شکر خدائے رحمان و رحیم کہ اس نے اس امت کو آپ کے ذریعہ تقویت بخشی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف کے بارے آپ نے جو کچھ تحریر کیا ہے۔کوئی مسلمان سوائے امنا وصدقنا کہنے کے اور کچھ نہیں کہہ سکتا۔شرم و حیا کو جواب دینے والا ہی آپ کی مخالفت میں زبان کھول سکتا ہے۔آپ کے ایک مخالف مولوی نے سنایا کہ اس نے فلاں بزرگ کے پاس آپ ( یعنی حضرت مرزا صاحب ) کے خلاف بات کہی تو اس بزرگ نے توجہ نہ دی بلکہ کہا کہ ( مرزا صاحب ) جوان صالح ہیں۔آپ کے کل اوقات اور جائیداد کارِ خیر میں مستغرق ہیں۔توجہ باطنی اور دعا سے مسلمانوں کو فریضہ زکوۃ کی ادائیگی کی طرف متوجہ فرمائیں۔نیز میری استدعا ہے کہ محض اللہ ایک جلد براہین احمدیہ مجھے عنایت فرمائیں بتوفیق الہی حصول ثواب کے لئے میں رقم بھیجوں گا۔ملاء اعلیٰ میں آپ کا درجہ اعلیٰ ہے۔میری دین و دنیا کی بہتری مکتوبات احمد یہ جلد ششم (حصہ اول صفحہ ۱۲) حدیث شریف کے بارے سہو کتابت کو تصحیح کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔