اصحاب احمد (جلد 10) — Page 190
190 سالہا سال سے کام کرتے تھے۔مگر مجھے تفصیل یاد نہیں۔“ اور میرے دریافت کرنے پر کہ کونسی؟ فرمایا کیا آپ نے اخبار میں نہیں پڑھا کہ حضور نے میرے گھوڑے سے گرنے کی خواب دیکھی تھی۔(51) میری اہلیہ نے عرض کی کہ حضور دودھ لاؤں۔فرمایا نہیں۔میں دودھ کا عادی نہیں اس سے مجھے اسہال کی شکایت ہو جاتی ہے۔پھر حضور کو چار پائی پر ہی اٹھا کر آپ کے مکان پر حکیم غلام محمد صاحب امرت سری آپ کے شاگرد اور غلام محی الدین صاحب جو بچوں کے خادم تھے وغیرہ اٹھا کر لے گئے۔میں بھی ساتھ تھا لیکن چار پائی اٹھانے کا مجھے موقع نہیں ملا۔تیسرے روز حکیم غلام محمد صاحب موصوف آئے اور کہا کہ حضرت خلیفہ اول خون آلود پگڑی منگواتے ہیں میں ان کے ساتھ حاضر ہوا تو فرمایا وہ پگڑی ہمیں دے دو۔میرے تو قف پر حضور میر امطلب سمجھ گئے اور فرمایا۔اچھا اسے دھلالو۔اور استعمال کرو لیکن ٹکڑے کر کے لوگوں میں تقسیم نہ کرنا اور مجھے ایک نئی پگڑی بھی عنایت کی۔احباب پگڑی دیکھنے آتے اور ان کی خواہش ہوتی کہ پگڑی انہیں مل جائے۔لیکن میں نے حسب ارشاد اسے دھلا لیا اور دونوں پگڑیاں استعمال کر لیں۔محترم سید عبدالرحمن صاحب خلف حضرت سید عزیز الرحمن صاحب جنوری ۱۹۵۲ء میں قادیان تشریف لائے ہوئے تھے۔انہوں نے حضرت خلیفہ اول کے گرنے کی جگہ موقع پر لیجا کر دکھا ئی تھی۔ان کا بیان تھا کہ اس حادثہ کا میری طبیعت پر گہرا اثر ہوا۔اور اب تک اس کا نقشہ مجھے پوری طرح یاد ہے اور آپ نے ذیل کا تحریری بیان دیا۔حضرت خلیفہ مسیح اول جب تنگ گلی میں سے گذر کر شیخ رحمت اللہ صاحب کوئلہ فروش کے مکان کے سامنے دروازہ کی جانب جنوب قریباً دس فٹ کے فاصلہ پر نالے کے نیچے وہاں ایک بڑا کھٹنگر پڑا تھا جس سے گھوڑی نے ٹھوکر کھائی اور حضور زمین پر آرہے اور اسی کھنگر سے حضور زخمی ہو گئے باہر سے کسی کی آواز آپ کے گرنے سے متعلق سن کر فوراً شیخ صاحب کی اہلیہ محترمہ گھر سے باہر نکل آئیں میرحسین صاحب بریلوی میرے پھوپھا کی گلی کے سرے پر آتشباز مہر دین کے مکان کے ملحق رہتے تھے۔والدہ صاحبہ اور میں وہاں آئے ہوئے تھے اہلیہ محترم شیخ صاحب وہاں بھی بتانے آئیں۔گھر میں مردصرف میں ہی تھا۔میں فوراً حضور کے پاس گھر پہنچا تو حضور زمین پر گرے پڑے تھے اور اُٹھنے کی کوشش کر رہے تھے۔اتنے میں شیخ صاحب چار پائی لے کر آگئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو مجھ سے پہلے علم ہو چکا تھا۔اب چار پائی پر