اصحاب احمد (جلد 10) — Page 74
74 میں اس خط کو پڑھ کر کانپ گیا اور میرے بدن میں کپکپی پیدا ہوگئی۔بڑی خوشامد اور لجاجت سے اپنی والدہ سے معافی مانگی اور ان کو خوش کیا۔اور زندگی بھر ان کی فرمانبرداری اور دلجوئی کو اپنا نصب العین بنالیا۔منشی حبیب احمد صاحب کا بیان ہے کہ حضرت شیخ عبدالوہاب صاحب نہایت نیک متقی اور پرہیز گار بزرگ ہیں گو آپ نو مسلم ہیں مگر تقویٰ و طہارت میں مسلمانوں کے لئے نمود ہیں۔میں نے صحابہ میں نمونہ و شہرت سے نفرت اور سادگی پائی۔ان کے دل بے حد نرم اور خشیت اللہ سے پر دیکھے۔شیخ صاحب جب حضرت مسیح موعود کا تذکرہ فرماتے اس وقت ان کی قلبی کیفیت کا خاکہ کھینچنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں۔وہ رقت کے ساتھ اس طرح باتیں کرتے کہ گویا اپنے محبوب کی محبت میں گداز ہو چکے ہیں۔اور اس کے لئے نہایت ہی بیتاب و بے قرار۔محترم شیخ عبدالرحیم صاحب شرما نے جن کے سوانح اسی کتاب میں درج ہیں۔حضرت شیخ عبدالوہاب صاحب ہی کی صحبت و تبلیغ سے اسلام و احمدیت قبول کی تھی۔شر ما صاحب بیان کرتے ہیں کہ وہ صوفی منش تھے ملا زمت سے سبکدوش ہونے کے بعد دار البیعت لدھیانہ میں رہتے تھے تقسیم ملک کے بعد بتاریخ ۱۰ اکتوبر ۱۹۵۴ء ان کا لاہور میں انتقال ہوا اس وقت آپ کی عمر ۷۸ سال تھی اور آپ بہشتی مقبرہ ربوہ ( قطعہ صحابہ ) میں دفن ہوئے آپ کا وصیت نمبر ۵۸۶۱ مورخہ ۲۹/۹/۴۱ تھا۔اللَّهُمَّ أَغْفَرْلَهُ وَ أَرْحَمُهُ۔آمين