اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 60 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 60

60 مذہبی آزادی نہ تھی پھر بال بچے دار بھی ہو گیا تھا۔بیوی ساتھ نہ دیتی تھی۔ملازمت سے برطرف ہونے اور جدی جائیداد سے محروم ہونے کا خوف بھی دامنگیر تھا۔جب اس بارہ میں سوچتا تو یہ سب موانع بھیانک شکل بنا کر میرے سامنے آتے دماغ کہتا اپنے انجام کو سوچ۔لاوارثوں کی طرح کہاں مارا مارا پھرے گا۔اور مجھ کو اس ارادہ سے باز رکھنے کی کوشش کرتا۔مگر میں خدا تعالیٰ سے عہد کر چکا تھا کہ اب میں اسلام کا اعلان ضرور کروں گا۔جانتا تھا کہ زندگی ختم تھی یہ مہلت مانگ کر لی ہوئی ہے اب غفلت کی اور بد عہدی ہوئی تو خداتعالی کی ناراضگی کا باعث ہوگی۔اس کشمکش میں تھا کہ خیال آیا۔سب حالات حضرت خلیفتہ ایسی اول کولکھ دوں۔اور وہاں سے جو ارشاد ہو اس کے مطابق عمل کروں۔چنانچہ ایک مفصل خط حضرت خلیفتہ المسیح اول کی خدمت میں لکھا کہ حضرت مسیح موعود کے ہاتھ پر مسلمان ہوا تھا۔لیکن ابھی تک اعلانیہ طور پر اظہار اسلام کی توفیق نہیں ملی۔بال بچے بھی ہیں۔اور ملازم بھی ہوں اور بہت سے موانع در پیش ہیں جن کی وجہ سے رکا ہوا ہوں چاہتا ہوں کہ اب اسلام کا اعلان کر دوں۔حضور نے لکھا کچھ دیر توقف کرو۔ہندو عورتیں عموماً وفادار ہوتی ہیں اپنی اہلیہ کو تبلیغ کر اور اس کو بھی اپنے ساتھ لانے کی کوشش کرو۔اس ارشاد کی تعمیل میں کچھ عرصہ اور رکا رہا۔اپنی بیوی کو اسلام قبول کرنے کے لئے رضامند کرنے کی کوشش کرتا رہا۔مگر میری والدہ اور خاندان کے دوسرے لوگ اسے ورغلا لیتے اور کہتے کہ کشن لعل محض تمہاری خاطر رکا ہوا ہے۔اگر تم نے کمزوری دکھائی اور اس کا ساتھ دیا تو وہ مسلمان ہو جائے گا۔میں نے سوچا اس ماحول میں رہتے ہوئے اس کا مسلمان ہونا مشکل ہے۔کسی طرح اس کو ان سے الگ کرنا چاہئے۔چنانچہ میں اس کوشش میں کامیاب ہو گیا۔اور ایک دوسرے مکان میں اپنی بیوی بچوں کو لے کر الگ ہو گیا۔وہاں جا کر وہ مسلمان ہونے کے لئے آمادہ ہوگئی۔چنانچہ ایک تاریخ مقرر کی گئی کہ اس دن چند روز کی رخصت لے کر قادیان جائیں گے اور مشرف بہ اسلام ہوں گے لیکن بعد میں نہ معلوم کیا ہوا۔اس نے پھر کمزوری دکھائی ادھر مجھ سے قادیان چلنے کا وعدہ کیا دوسری طرف پوشیدہ طور پر اپنے والد کو پیغام بھجوا دیا کہ فلاں دن کشن لعل مسلمان ہونے کے لئے قادیان جائے گا۔اور مجھ کو بھی ہمراہ لے جانا چاہتا ہے اگر اس کو بچانا ہے تو آ جاؤ جس صبح ہم نے قادیان کے لئے روانہ ہونا تھا اس سے قبل کی شام کو میرے خسر جو کہ ایک دوسرے قصبہ میں رہتے تھے جو بارہ میل کے فاصلہ پر تھا۔نا گہاں آگئے جس وقت وہ ہمارے مکان میں داخل ہوئے میں نے دیکھا کہ وہ ہانپ رہے تھے اور ان کے گھٹنے لرزتے تھے شاید غصہ اور رنج کی وجہ سے ان کی یہ حالت تھی۔میں ان کی حالت دیکھ کر سمجھ گیا کہ خیر نہیں ان