اصحاب احمد (جلد 10) — Page 53
53 اگر میں نے اسلام کا اعلان کر دیا تو ہندو قوم ہمارے خاندان کا بائیکاٹ کر دے گی۔ہمارا خاندان میرے ساتھ مسلمان تو نہ ہوگا۔مگر یہ ضرور ہو گا کہ میری بہن جس کی حال ہی میں شادی ہوئی ہے اور مجھے بہت عزیز ہے تکلیف میں پڑ جائے گی۔سسرال والے اس کو ہمارے ہاں چھوڑ جائیں گے۔اور وہ ہندو ہونے کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھائے گی۔میں نے سب حالات حضور کے سامنے رکھ کر اپنے لئے دعا کی درخواست کی جس کا جواب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے ہاتھ کا لکھا ہوا ملا کہ حضور نے آپ کے لئے دعا فرمائی ہے۔دعا کے لئے میں حضور کو گا ہے لگا ہے لکھتا رہتا تھا۔جواب بھی آتا تھا جو منشی عبدالوہاب صاحب کی معرفت ہی آتا تھا۔وہ سب خطوط منشی عبدالوہاب صاحب کے پاس ہی تھے۔افسوس کہ وہ ان سے کہیں ضائع ہو گئے ہیں میری بیعت کے تھوڑے ہی عرصہ کے بعد حضرت مولوی صاحب کا وصال ہو گیا۔حضرت اقدس کی زندگی میں مجھے دوبارہ قادیان آنے کا موقع نہیں ملا جس کا مجھے افسوس ہے۔نماز پڑھتے پکڑا جانا :۔اسلام لانے کے بعد میں کافی عرصہ تک چھپارہا۔مگر ایمان ایک ایسی چیز ہے کہ جو چھپانے سے بھی زیادہ عرصہ چھپی نہیں رہ سکتی۔چنانچہ میرے مسلمان ہونے کا علم بھی میرے گھر والوں کو جلد ہو گیا۔اس طرح کہ رات کی نمازیں جو میں اپنے گھر کی ایک کوٹھڑی میں کواڑ بند کر کے پڑھا کرتا تھا مجھ کومتواتر اس کوٹھڑی میں جاتے دیکھ کر میری بیوی کو شک گزرا اور اسے جستجو ہوئی کہ وہ معلوم کرے کہ میں دروازہ بند کر کے اس کوٹھڑی میں کیا کرتا ہوں۔وہ دروازہ کی درزوں سے دیکھنے کی کوشش کرتی لیکن اندھیرا ہونے کی وجہ سے اس کو دکھائی نہ دیتا ایک روز نماز میں مجھ پر رقت طاری ہوگئی اور میری آواز اس نے باہر سن لی۔وہ گھبرا گئی اور میری والدہ سے جا کرذ کر کیا۔میری والدہ نے مکان کی چھت پر چڑھ کر کوٹھڑی کے مگھ سے جھانکا اور مجھ کو رکوع اور سجدہ کرتے دیکھ کر ان کو حیرانی ہوئی چونکہ ان دنوں میرا میل ملاپ مسلمانوں سے بڑھ گیا تھا۔اس لئے والدہ صاحب کو شبہ ہوا کہ کہیں مسلمانوں کا اثر مجھے پر نہ ہو گیا ہو۔جب میں نماز سے فارغ ہو کر باہر آیا تو والدہ صاحبہ نے دریافت کیا کہ تم اندر کیا کر رہے تھے۔میں نے کہا پر میشور کی عبادت کیا کرتا ہوں انہوں نے کہا ہند و تو اس طرح عبادت نہیں کرتے تم تو نیل گروں کی طرح نماز پڑھ رہے تھے۔ہمارے پڑوس میں مسلمان رنگریز رہتے تھے۔والدہ صاحبہ نے کہیں ان کو نماز پڑھتے دیکھا ہوگا۔مجھے اقرار کرنا پڑا اور بات کھل گئی۔والدہ صاحبہ بہت برہم ہوئیں میں نے عرض کیا اماں! میں اسلام کو سچا مذہب سمجھتا ہوں۔میں نے اس کو آزمایا ہے۔میں اس کو کسی طرح بھی نہیں چھوڑ سکتا۔محض آپ کی