اصحاب احمد (جلد 10) — Page 47
47 تلاش کروں لیکن والدہ صاحبہ کی خواہش کی تعمیل میں میں اسی وقت ملازمت کی تلاش میں گھر سے باہر نکل گیا۔ان دنوں ہمارے ہاں چونگی خانہ کا محکمہ نیا یا کھلا تھا۔نند کشور نامی ایک ہند و چونگی خانہ میں ملازم تھا۔میری اس سے کسی قدر واقفیت تھی میں نے اس سے ذکر کیا کہ والدہ صاحبہ ملازمت کو کہتی ہیں مجھے کوئی ملازمت دلو ادو۔اتفاق سے وہ چھٹی پر جارہا تھا اور اپنی جگہ پر ایک آدمی دینا تھا۔مجھے یہ بتا کر کہ وہ چونگی خانہ میں محرر ہے اپنی جگہ رکھوا دیا۔تھوڑے سے ہی عرصہ کے بعد مجھ کو معلوم ہوا کہ وہ شخص چپڑاسی تھا۔میری تنخواہ چار روپے ماہوار مقرر ہوئی۔نند کشور کو باؤلے کتے نے کاٹ لیا اور وہ مر گیا۔میں اس کی جگہ پر کام کرتارہا۔یہ ملازمت میری ہدایت کا موجب ہوئی۔چونگی خانہ میں ایک احمدی منشی عبدالوہاب صاحب محرر تھے ان کے والد ہندوؤں سے مسلمان ہوئے تھے۔یہ منشی صاحب صوفی منش آدمی تھے ریٹائر ہونے کے بعد دارالبیعت لدہانہ میں رہتے تھے۔افسوس تقسیم ملک کے بعد لاہور آکر ان کا انتقال ہو گیا اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے ( آمین ) بہشتی مقبرہ ربوہ قطعہ صحابہ میں مدفون ہیں۔ملازمت کے دوران میں مجھ کو اکثر ان کے پاس بیٹھنے کا اتفاق ہوتا تھا۔تبلیغ کا ان کو بہت شوق تھا مجھ کو بھی وہ تبلیغ کیا کرتے تھے۔ان کا طریق تبلیغ یہ تھا کہ وہ ہندو مذہب کا ایک نقص ظاہر کر کے اس کے مقابلے میں اسلام کی خوبیاں بیان کرتے تھے اور دلائل سے موازنہ کرتے تھے۔میں اپنی سمجھ کے مطابق بحث مباحثہ کرتا تھا لیکن ابتداء سے میری طبیعت میں یہ بات تھی کہ جو بات مجھ کو درست معلوم ہوتی تھی اس پر میں خاموش ہو جا تا تھا۔مسلمانوں سے مذہبی گفتگو کا آغاز :۔مسلمانوں سے مذہبی گفتگو کا آغا ز ایک معمولی واقعہ سے ہوا۔جس چونگی پر میرا تقر ر تھا وہاں ایک سپاہی فقیر محد بھی متعین تھا۔ایک روز ہم چار پائی پر بیٹھے تھے کہ ایک گائے ادھر سے گذری۔چار پائی کے بالمقابل آکر اس نے پیشاب کر دیا چھینٹے اڑ کر ہمارے کپڑوں پر پڑے۔فقیر محمد نے لٹھ لے کر گائے کو خوب زدوکوب کیا۔ہند و خیالات کی وجہ سے بچپن سے گائے کی تقدیس میرے دل میں راسخ تھی۔میں ایک مسلمان کے ہاتھوں گائے کی بے رحمانہ زدوکوب کو برداشت نہ کر سکا اور اس سے جھگڑ پڑا۔فقیر محمد نے کہا کہ یہاں سہو ہے خود منشی صاحب والد کی وفات کے بعد مسلمان ہوئے تھے جیسا کہ ان کے لکھوائے ہوئے حالات میں ہی کتاب میں ذکر ہے۔