اصحاب احمد (جلد 10) — Page 46
46 دینا بند کر دیا تھا۔ان کی غربت کو دیکھ کر کوئی ساہوکار بھی ان کو ادھار نہ دیتا تھا اس وجہ سے ان کو زندگی گذارنا دوبھر ہو گیا تھا۔اور اکثر فاقوں کی نوبت آتی تھی۔اس عورت نے اپنی ساری کیفیت بیان کر کے مجھ سے منت کی کہ ان کو کچھ مہلت دی جائے کیونکہ اس وقت قرض ادا کرنے کے لئے ان کے پاس کچھ نہ تھا۔میں نے کہا رمضانی جب آئیں تو اسے میرے پاس بھیجنا۔راستہ میں سوچتا آیا کہ ان کی سب مصیبتوں کا باعث ہم ہیں ایسی حالت میں مجھ کو ضرور ان کی مدد کرنی چاہئے۔مزید روپیہ تو میں دے نہیں سکتا تھا۔میں نے سوچا کہ کسی طرح ان کو اپنے پرانے قرض سے سبکدوش کر دینا چاہئے۔لیکن بھائی صاحب کا خوف دامن گیر تھا۔مجھ کو قرض معاف کرنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔شام کو رمضانی آیا میں نے بہی سے دیکھ کر بتایا کہ کس قدر رقم اس کے ذمہ واجب الادا ہے۔وہ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا مہاراج ہم پائی پائی ادا کر دیں گے۔اس وقت ہمارے پاس کچھ نہیں ہے ہمیں مہلت ملنی چاہئے۔ان کی حالت تو میں دیکھ ہی آیا تھا اس کی اس اپیل پر میرے دل نے جوش مارا میں نے کہا رمضانی ! تم اس قرض کی طرف سے بالکل بے فکر ہو جاؤ۔میں تم کو معاف کرتا ہوں مگر اس کو یقین نہ آیا کہ ایک ساہوکار کا ہندو بچہ بھی کبھی اس طرح قرض معاف کر سکتا ہے۔وہ میری بات کو مذاق سمجھا اور بہ منت درخواست کرنے لگا کہ اس وقت ان کی حالت ایسی ہے کہ ضرور ان پر رحم ہونا چاہئے۔میں نے کہا رمضانی ! میں جو کہتا ہوں کہ تم بالکل فکر نہ کرو۔تمہارا قرض میں نے معاف کر دیا ہے یہ کہ کر میں نے اس کے روبرو ہی پر قلم پھیر دی۔اور کہا لو! تمہارا سب قرض وصول ہو گیا۔غرض بڑی مشکل سے رمضانی کو یقین آیا کہ واقعی اس کو قرض سے چھٹکارا مل گیا ہے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور دعائیں دیتا گھر لوٹ گیا۔اور تو ان کا کوئی بڑا قرض نہ تھا ان کا لین دین زیادہ تر ہمارے ساتھ ہی تھا جب اس قرض سے سبکدوشی ہوئی تو آہستہ آہستہ ان کی حالت پھر سدھرنے لگی ایک عرصہ تک تو یہ بات میرے بھائی سے چھپی رہی۔پھر جب ان کو علم ہوا تو بہت بگڑے لیکن والدہ صاحبہ نے بیچ بچاؤ کرا دیا اور بات رفع دفع ہوگئی۔اسلام کی طرف ہدایت کا سامان : میرے بھائی کی لا پرواہیوں اور غلط کاریوں کی وجہ سے ہمارے کاروبار میں خسارہ آنا شروع ہو گیا تھا۔والدہ صاحبہ ہماری مربی تھیں جب انہوں نے دیکھا کہ بھائی کی اصلاح کی کوئی صورت نہیں رہی تو انہوں نے فرمایا کہ کشن ! تم دکان کا کام چھوڑ دو اور کوئی ملازمت اختیار کرلو۔میں ابھی چھوٹا ہی تھا اور ہمارے خاندان میں پہلے کبھی کسی نے ملازمت بھی نہ کی تھی۔مجھ کو کچھ واقفیت نہ تھی کہ کہاں ملا زمت