اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 45 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 45

45 سی پیدا ہو گئی۔اور دل میں طرح طرح کے خیالات اُٹھتے۔اسی حالت میں ایک عرصہ تک میں بھائی صاحب کے ساتھ دکان پر کام کرتا رہا۔میرے بھائی عیاش طبیعت کے آدمی تھے کاروبار میں پوری توجہ نہ دیتے تھے۔شام کو آتے تو جو بکری ہوتی وہ مجھ سے بہانہ بنا کر لے جاتے کبھی کہتے کہ فلاں ساہوکار سے مال منگوایا تھا اس کو رقم دینی ہے کبھی کچھ اور بہانہ کرتے لیکن وہ روپیہ کسی کو دینے کی بجائے اپنی عیاشیوں میں صرف کر لیتے جب ساہوکار کا تقاضا ہوتا تو حقیقت کھلتی۔والدہ صاحبہ سے کہتا وہ ادھر ادھر سے روپیہ لے کر قرض بے باق کروا دیتیں کچھ عرصہ تک اسی طرح ہوتا رہا۔آخر کب تک؟ کاروبار میں خسارہ پڑنے لگا۔قرض معاف کرنا : ایک دفعہ مجھ سے بھی مالی نقصان ہوالیکن وہ نقصان ایسا تھا جس سے آج بھی میں لذت اندوز ہوتا ہوں۔میں سمجھتا ہوں شاید یہی بات اللہ تعالیٰ کو پسند آئی کہ جس کے صلہ میں اس نے مجھ کو اسلام جیسی نعمت بخشی۔جس کی تفصیل یہ ہے کہ ارد گرد کے مسلمان ہی والد صاحب کے سودی کاروبار کے شکار رہتے تھے۔ہمارے قصبہ میں جانی اور رمضانی دو بھائی کا شتکار رہتے تھے۔میرے والد صاحب سے کچھ رقم انہوں نے سود پر لی ہوئی تھی۔وصولی کا طریق یہ تھا کہ جب فصل کاٹ لی جاتی اور غلہ نکلتا تو والد صاحب سب غلہ اٹھوا لاتے تھے۔آئندہ کے لئے پھر وہ ہمارے دست نگر ہو جاتے۔اور ہماری دکان سے ادھار غلہ اور روپیہ لیتے رہتے۔سال کے بعد پھر انہیں سود میں اپنی فصل ہمیں دینا پڑتی۔اسی طرح سالہا سال تک ہوتا رہا۔اور آہستہ آہستہ ان کے ذمہ ایک بھاری رقم قرض کی ہوگئی جس سے وہ عہدہ برآنہ ہو سکتے تھے۔ایک روز بھائی نے مجھ کو ان کے گھر قرض کے تقاضا کے لئے بھیجا۔جانی اور مضانی خود تو گھر میں موجود نہ تھے۔گھر کی حالت نہایت خستہ تھی۔میں نے دیکھا کہ چھوٹے چھوٹے بچے برہنہ سردی کے مارے ٹھٹھر رہے ہیں۔رمضانی کی بیوی چکی پیس رہی تھی اس کے کپڑے نہایت بوسیدہ تھے۔تھوڑی سی مکئی تھال میں پاس پڑی ہوئی تھی جس کو پیس کر وہ اپنے بچوں کا جو بھوک کے مارے رو ر ہے تھے پیٹ بھرنا چاہتی تھی۔مجھ کو دیکھ کر اس نے ایک پیڑھی آنچل سے صاف کر کے بڑھائی اور کہا مہاراج! بیٹھ جائیے۔رمضانی ابھی آجائیں گے ان کا خستہ حال اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اور کچھ اس عورت کی زبانی حالات سن کر میرے دل کو سخت تکلیف پہنچی میں نے سوچا کہ ان کی سال بھر کی کمائی تو ہم لے جاتے ہیں اور یہ بیچارے اس مصیبت میں دن گزار نے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ان دنوں ان کی تنگدستی اور بھی بڑھ گئی تھی کیونکہ والد صاحب کے فوت ہو جانے کے بعد ہمارے کاروبار میں خسارہ پڑنا شروع ہو گیا تھا۔اور بھائی نے ان کو مزید قرض