اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 492 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 492

492 پر بہت ناراض ہوئے اور کہا کہ دھوکہ نہیں دینا چاہیے۔یہ اللہ کریم کو نا پسند ہے۔(۱۱۷) (۷) خدمت خلق۔بزرگان سلف کی طرح آپ کو علم طب کا خاص ملکہ عطا ہوا تھا۔آپ بنی نوع انسان سے ہمدردی رکھتے تھے۔ہر ضرورتمند کی مدد کرتے تھے۔کسی کی لڑکی کی شادی ہو تو نقدی وغیرہ سے امداد کرتے تھے۔(۱۱۸) (۸) جراتمندانہ شیوۂ راستگو ئی۔راستگوئی آپ کا شیوہ تھا جسے اختیا ر کرنے پر آپ نے بہت سے نقصانات اور تکالیف برداشت کیں لیکن اس کا دامن نہ چھوڑ۔آپ مہاراجہ والئی ریاست سے بھی بلا روک آزادانہ گفتگو کر لیتے تھے۔اس ریاست کے ایک وزیر کے خلاف بولنے کی کسی کو مجال نہ تھی اسے ایک تحصیل دار نے اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے یہ بات پہنچادی کہ آپ تو تجربہ کار ہیں مگر منشی صاحب نے کہا ہے کہ آپ نے فلاں سرکاری جاگیر فروخت کرنے میں جلد بازی سے کام لیا ہے۔وہ بہت قیمتی تھی۔عند الملاقات وزیر موصوف نے کہا کہ آپ نے فلاں کام کے متعلق بتایا ہے کہ میری نا تجربہ کاری اور غلطی تھی منشی صاحب نے بلاتر در خوف کہہ دیا کہ درست ہے میرا یہی خیال ہے چونکہ اسے معلوم تھا کہ آپ راستگو انسان ہیں اور سچائی کے اظہار میں کبھی نہیں گھبراتے اس لئے وہ خاموش رہا۔(۱۱۹) (۹) قانون کی پابندی۔آپ بڑی سختی سے قانون کی پابندی کرتے تھے چونکہ ریاست میں گائے کشی پر پابندی عائد تھی۔اس لئے آپ نے عمر بھر اس قانون کی پابندی اپنے گھرانے میں کی۔(۱۲۰) (۱۰) فیاضی طبع ایک جراح کے علاج سے آپ کا پھوڑا دور ہوا تو اسے انعام دے کر آپ نے ہر ششماہی انعام دینے کا وعدہ کیا جو ایفاء کیا بلکہ اس جراح کی وفات کے بعد ایک دفعہ اس کے بیٹے نے بھی انعام حاصل کیا۔(۱۲۱) (۱۱) آپ کی مومنانہ فراست شیخ عبدالرحمن صاحب یبان کرتے ہیں کہ حضرت والد صاحب نے آخری بار جلسہ سالانہ ۱۹۲۷ء میں شرکت کی تھی۔آپ کے بخار سے علیل ہونے اور کمزور اور معذور ہونے کی اطلاع کے ساتھ مرکز میں درخواست کی گئی کہ پندرہ سولہ افراد کے لئے ایک الگ کمرہ کا انتظام فرمایا جائے۔منتظم مکانات اندرون قصبہ نے جوا با مطلع کیا کہ ایسا انتظام کر دیا گیا ہے۔قادیان ہم پہنچے تو مسجد اقصیٰ کے قریب ایک کمرہ دس فٹ لمبا اور آٹھ فٹ چوڑا دیا گیا جونا کافی اور نو تعمیر شدہ تھا۔ابھی وہ تر ہ تر تھا۔اس میں گیلی گھانی اور گارا پڑا تھا۔کمرہ کی کرسی زمین سے پانچ چھ فٹ اونچی تھی اور دروازہ کے لئے کوئی سیڑھی نہ تھی۔یہ حالات دیکھ کر والد صاحب ہمارے ساتھ منتظم مکانات شیخ عبدالرحمن صاحب مصری سے ملاقات کے لئے مدرسہ احمدیہ میں پہنچے۔تین دفعہ اطلاع کروائی گئی اور بھی بہت سے احباب ان سے ملاقات کے لئے آرہے تھے۔والد صاحب کو آدھ گھنٹہ کھڑا رہنا پڑا بالآخر وہ آئے والد صاحب کی علالت کے پیش نظر ان تکالیف کا ذکر