اصحاب احمد (جلد 10) — Page 491
491 نے بیعت کی تھی۔حاجی پور میں آباد کردہ مسلمانوں کی دینی تربیت کی کوشش میں آپ نے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور مبلغین وغیرہ سے اس بارے میں استفادہ کرتے تھے۔جدید (۵) حقوق العباد میں انصاف پروری اپنی جائیداد کی حفاظت کی طرح آپ اپنے ایسے شدید معاند کی جائیداد کی حفاظت کا خیال رکھنے سے بھی کوتا ہی نہیں کرتے تھے۔جس کے خاندان نے عمر بھر آپ کو جھوٹے مقدمات میں الجھائے رکھا۔ایک شخص نے یہ جانتے ہوئے کہ وہ آپ کا مخالف ہے اس کے درخت کاٹ لئے اور آپ کے روکنے پر کہا کہ یہ درخت آپ کے نہیں آپ نے اسے سختی سے روکا۔اور کہا کہ وہ اور میں دو نہیں ہیں۔اس کے درخت کاٹنا میری انگلیاں کاٹنے کے مترادف ہے۔چنانچہ وہ رک گیا بلکہ اس نے معافی مانگی۔آپ دوست دشمن ہر ایک کی اعانت کے لئے مستعد رہتے تھے۔اس مخالف شریک بیٹے کے آ کر آر سے التجا کی کہ ہمارا کپورتھلہ کا مکان تنگ ہے۔آپ اپنے ملحقہ مکان کا کچھ حصہ ہمیں دیدیں آپ نے عبدالرحمن صاحب کے مشورہ پر اس کا سوال پورا کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ یہ مکان خود اپنے لئے بھی غیر مستفی تھا۔لیکن کچھ وقفہ کے بعد اسے تحریری اجازت دیدی کہ وہ ایک حصہ کو اپنے مکان میں شامل کرلے اور شیخ صاحب کے دریافت کرنے پر آپ نے فرمایا کہ وہ بھی میرے لئے تمہارے جیسا بچہ ہے جب وہ مجھے باپ سمجھ کر میرے پاس اپنی تکلیف لے کر آیا ہے۔تو میری ضمیر نے فتوی نہیں دیا کہ میں اس کے سوال کو رد کر دوں۔(۱۱۶) (۶) دھوکہ سے نفرت آپ کو دھوکہ فریب اور جھوٹ سے نفرت تھی آپ کی ایک بھینس میں کئی نقائص تھے جب بھی ملازم کسی خریدار کو لاتے اور قیمت طے کر لیتے تو آپ اس کے عیب کا ذکر کر دیتے جس پر وہ فروخت نہ ہوتی۔ملازموں نے مشورہ کر کے ایک خریدار کو بالکل صبح کا وقت قیمت لانے کو بتلایا جبکہ ابھی آپ اندرونِ خانہ ہوتے تھے اور قیمت لے کر بھینس دیدی۔جب سمجھا کہ خریدار بہت دور نکل گیا ہے تو اندرونِ خانہ قیمت بھیج دی آپ فورا باہر تشریف لائے اور پوچھا آیا اسے اس کے عیب سے آگاہ کر دیا تھا وہ کہاں ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ تو بہت دیر ہوئی جاچکا ہے اور دور چلا گیا ہے بھر بھی فرمایا کہ دیکھول جائے تو بلا لاؤ مگر وہ دور جاچکا تھا۔آپ ملازموں الحکم ۲۱ را گست ۱۹۳۵ء (صفحہ ۷ کالم ۲۱ صفحہ ۸ کالم ۳ - صفحہ ۸ کالم ۳ صفحہ کالم ۲) مضمون مصدقہ منجانب حضرت منشی ظفر احمد صاحب ☆ حضرت نیر صاحب کے بارے میں یہ بات ان کی زندگی میں ہی شائع ہوئی تھی۔شیخ لطف المنان صاحب ( بغیر منشی حبیب الرحمن صاحب) لکھتے ہیں کہ جب حضرت نیر صاحب کو حضرت مصلح موعودؓ نے تبلیغ کے لئے ( بیرون ملک بھیجوانے کے لئے ) منتخب فرمایا تو آپ حاجی پور دادا جان کے پاس آئے۔اور کہا کہ میں کچھ نہیں جانتا کہ میں اس فریضہ کو کیسے ادا کروں گا۔دادا جان نے کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں۔ہمارے خاندان کے کسی فرد کو دیکھتے تو فرماتے کہ ہمیں احمدیت انہی کے گھر سے ملی ہے۔)