اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 484 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 484

484 صاحب کی بیعت کے جلد بعد بذریعہ خط بیعت کر لی تھی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۹۲ء میں کپورتھلہ تشریف لائے تو حضور کا قیام حضرت میاں محمد خاں صاحب کے مکان پر تھا اور تمام احمدی مستورات وہاں حضور کی زیارت کو ئی تھیں۔میں اور اہلیہ صاحبہ منشی ظفر احمد صاحب اکٹھی وہاں زیارت کے لئے گئی تھیں۔حضور کی گردن جھکی ہوئی تھی۔آنکھیں نیم وا تھیں ایک خاتون ہر خاتون کا یہ بتا کر حضور سے تعارف کروارہی تھیں کہ یہ فلاں دوست کے گھر سے ہیں۔ہم دونوں نے اپنے برتھے اوڑھ رکھے تھے اور ایک طرف ہوکر بیٹھ کر واپس آ گئی تھیں۔آپ کی وفات کے بارے ۲۸ ستمبر ۱۹۴۱ء میں زیر مدینہ اسیح " مرقوم ہے:- افسوس منشی تنظیم الرحمن صاحب کی والدہ صاحبہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحابی تھیں بعمر ۷۳ سال وفات پاگئیں۔انا للہ وانا اليه راجعون۔کل عصر کے بعد حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے نماز جنازہ پڑھائی اور مرحومہ کو بہشتی مقبرہ کے قطعہ خاص صحابہ میں دفن کیا گیا۔احباب بلندی درجات کے لئے دعا کریں۔سیرۃ حضرت منشی صاحب حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب کی نیک سیرۃ کا ایمان افروز تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے:۔بقیہ حاشیہ سابقہ : - میرے نزدیک ایک مضبوط بنیاد ہے کہ اس سے قبل میں نے کسی مضمون یا کتاب میں نہیں پڑھی۔اور پردہ کی بحث کو صحیح راستہ پر چلانے کے لئے واقعہ میں یہی صحیح راستہ ہے کہ ستر اور حجاب یعنی محرم مردوں کے سامنے آنے (یا نہ ) آنے اور غیر محرم کے سامنے آنے یا نہ آنے کے متعلق آیت یا حدیث ستر کے متعلق اور کونسا حکم حجاب کے بارہ میں ہے پس میں دعوالی مصنف اور مدعاءِ کتاب سے پوری طرح متفق ہوں۔تمہید میں منشی صاحب نے تحریر کیا کہ پردہ کے متعلق اخبارات ورسائل میں مضامین شائع ہونے پر میں نے بھی قلم اٹھایا ہے۔مضمون طویل ہونے پر کتابی صورت میں شائع کیا گیا۔یورپ کے علماء اور فلاسفروں کی آراء کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔سائز کتاب ۲۰۷۲۰ صفحات ایک سو چارسن طبع ۱۹۳۰ء مطبع وزیر ہند پریس امرتسر میں پانصد کی تعداد میں طبع ہوئی قیمت بہت کم یعنی فی نسخہ چھ آنے مقرر کی گئی اور اکثر جلد میں مفت تقسیم کی گئیں۔(۱) الفضل ۳۰ ستمبر ۱۹۴۱ء گویا ان کی وفات قادیان میں ہوئی تھی کیونکہ باہر سے جنازہ آنے کا ذکر نہیں آپ کی قبر قدیم صحابہ کے قطعات میں سے قطعہ نمبر ۵ میں ہے۔یہ قطعہ ہے جس کے حصہ ( قطار ) نمبر۳ میں دوسری قبر ہے۔