اصحاب احمد (جلد 10) — Page 483
483 (۱۳۱۲) حضرت خلیفتہ اسیح الثانی اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہما کی سفر یورپ سے مراجعت پر سپاسنا ہے۔(۱۴) سوانح سرسید احمد خاں دیکھ کر آپ کے دل میں شدید تڑپ پیدا ہوئی کہ سوانح حضرت مسیح موعود علیہ السلام تیار کروائیں۔چنانچہ ایک احمدی صاحب قلم بزرگ کو آپ نے سلسلہ کا لٹریچر مہیا کر کے دیا لیکن آپ کی زندگی نے وفانہ کی۔(۱۱۲) الحکم ۷ ستمبر ۱۹۳۵ء ( صفحه ۵ کالم ۲ و تاریخ احمدیت جلد دوم صفحه ۸۳ حاشیه ) (۱۵) تحریک تنظیم کے بارے آپ کا مضمون ( جو دوسری جگہ درج ہوا ہے ) (۱۲) قرآن کریم احادیث اور اقوال بزرگان کی روشنی میں پردہ کے بارے میں آپ نے کتاب الحجاب تالیف کی جو آپ کے گہرے دینی مطالعہ اور تفقہ کی نشاندہی کرتا ہے۔اسے علامہ حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی نے ” قابل قدر قرار دیا ہے۔منشی صاحب کی اہلیہ محترمہ محترمہ کلثوم بی بی صاحبہ نے بواسطہ شیخ عبدالرحمن صاحب بتایا کہ میں نے اپنے خاوند منشی حبیب الرحمن بقیہ حاشیہ سابقہ اور مخفی طور پر ایک کتاب رہے جس میں اس جماعت کی لڑکیوں اور لڑکوں کے نام لکھے رہیں اور اگر کسی لڑکی کے والدین اپنے کنبہ میں ایسی شرائط کا لڑکانہ پاویں ایسا ہی اگر ایسی لڑکی نہ پاویں تو اس صورت میں ان پر لازم ہوگا کہ وہ ہمیں اجازت دیں کہ ہم اس جماعت میں سے تلاش کریں اور ہر ایک کو تسلی رکھنی چاہیئے کہ ہم والدین کے بچے ہمدرد اور غمخوار کی طرح ( رشتہ ) تلاش کریں گ۔۔۔۔۔۔۔۔لازم ہے کہ اپنی اولاد کی ایک فہرست بقید عمرو قومیت بھیج دیں تا وہ کتاب میں درج ہو جائے (۱۱۳) فاضل اجل حضرت میر محمد الحق صاحب اپنے تبصرہ میں رقم فرماتے ہیں کہ :- مخلصوں پر ”جناب ( ناظر صاحب تالیف و تصنیف) کے فرمانے پر میں نے "کتاب الحجاب کا بالاستیعاب مطالعہ کیا نفس مضمون اور مدعا میرے نزدیک بالکل درست ہے کہ غیر محرم کے سامنے عورت کا کوئی حصہ حتی کہ ہاتھ پاؤں چہرہ وغیرہ نہ ہونے چائیں مضمون کی بنیا دستر اور حجاب دو الگ الگ مسئلے ہیں اور دونوں احکام قرآن مجید اور احادیث میں بیان کئے گئے ہیں اور یہ کہ غلطی سے مخالفین پردہ نے ستر کے احکام حجاب پر چسپاں کر کے بے حجابی پر استدلال کیا ہے