اصحاب احمد (جلد 10) — Page 465
465 لیکن جو امر میرے اختیار میں نہیں میں خدا وند قدیر سے چاہتا ہوں کہ وہ آپ اس کو انجام دیوے۔میں مشاہدہ کر رہا ہوں کہ ایک دست غیبی مجھے مدد دے رہا ہے اور اگر چہ میں تمام فانی انسانوں کی طرح نا تواں اور ضعیف البنیان ہوں۔تاہم میں دیکھتا ہوں کہ مجھے غیب سے قوت ملتی ہے اور میں جو کہتا ہوں کہ ان الہی کاموں میں قوم کے ہمدرد مدد کریں وہ بے صبری سے نہیں بلکہ صرف ظاہر کے لحاظ اور اسباب کی رعایت سے کہتا ہوں ورنہ خدا تعالیٰ کے فضل پر میرا دل مطمئن ہے اور امید رکھتا ہوں کہ وہ میری دعاؤں کو ضائع نہیں کریگا اور میرے تمام ارادے اور امید میں پوری کر دے گا۔آخر پر حضور نے فرمایا کہ اب میں ان مخلصوں کا نام لکھتا ہوں جنہوں نے حتی الوسع میرے دینی کاموں میں مدددی یا جن پر مدد کی امید ہے یا جن کو اسباب میسر آنے پر طیار دیکھتا ہوں۔“ پھر حضور نے انتالیس مخلصین کے اسماء مع ان کے اوصاف و خصائل رقم کئے ہیں پھر باقی اسماء بعض مبائعین درج کئے ہیں جو پینتیس ہیں۔اور ان میں ستر ہویں نمبر پر " جسی فی اللہ منشی حبیب الرحمن صاحب“ کا نام مرقوم ہے ان مؤخر الذکر احباب کے بارے میں حضور تحریر فرماتے ہیں کہ یہ سب صاحب علی حسب مراتب اس عاجز کے مخلص دوست ہیں اور بعض ان میں سے اعلیٰ درجہ کا اخلاص رکھتے ہیں۔اسی خلاص کے موافق جو اس عاجز کے منتخب دوستوں میں پایا جاتا ہے اگر مجھے طول کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں جدا گانہ ان کے مخلصانہ حالات لکھتا۔انشاء اللہ القدیر کسی دوسرے مقام میں لکھوں گا۔اب میں اس تذکرہ کو دعا پر ختم کرتا ہوں: ”اے قادر خدا! میرے اس ظن کو جو میں اپنے ان تمام دوستوں کی نسبت رکھتا ہوں سچا کر کے مجھے دکھا اور ان کے دلوں میں تقوی کی سبز شاخیں جو اعمال صالحہ کے میووں سے لدی ہوئی ہیں پیدا کر ان کی کمزوری کو دور فرما اور ان کا سب کسل دور کر دے اور ان کے دلوں میں اپنی عظمت قائم کر اور ان میں اور ان کے نفسوں میں دوری ڈال اور ایسا کر کہ وہ تجھ میں ہو کر بولیں اور تجھ میں ہو کر سنیں اور تجھ میں ہو کر دیکھیں اور تجھ میں ہو کر ہر ایک حرکت ( و ) سکون کریں۔ان سب کو ایک ایسا دل بخش جو تیری محبت کی طرف جھک جائے اور ان کو ایک ایسی معرفت عطا کر جو تیری طرف کھینچ لیوے۔اے بار خدا ! یہ جماعت تیری جماعت ہے اس کو برکت بخش اور سچائی کی روح ان میں ڈال کہ سب قدرت تیری ہی ہے۔آمین۔حاشیہ اگلے صفحہ پر