اصحاب احمد (جلد 10) — Page 451
451 مرحوم و مغفور کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ کو خلیفہ اول مانا۔اس وقت بھی ان بڑے لوگوں نے ابتداء کی اور ان کے طریق عمل نے ثابت کر دیا کہ خلافت ضروری ہے۔اگر چہ بقول ان کے بعض نے بیعت نہیں کی مگر قوم نے ان کی طرف اس واسطے بھی توجہ نہیں کی اور یہ ان کا فرض نہ تھا کہ خواہ مخواہ ان لوگوں کو بیعت کرائیں تاہم بعض لوگوں نے ان لوگوں کے اعتراضات کے جواب دئے۔اس واقعہ سے کچھ عرصہ کے بعد ان بڑوں (امیروں ) کو اور ممبران صدر انجمن احمدیہ کو ان کی آزادی نے بڑائی کا رنگ پکڑا جس پر ان کے دل نے ٹھو کر کھائی اور اب ان کی چند ہیائی ہوئی آنکھوں کے سامنے خلیفہ کی کچھ حقیقت نہ تھی اور مجھ بیٹھے کہ خلیفہ ہم ہی نے بنایا ہے۔اور خلیفہ ہمارا ماتحت ہونا چاہیے ایک دفعہ نہیں بلکہ بارہا حضرت خلیفہ مسیح مرحوم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خلیفہ خدا تعالی بنایا کرتا ہے۔غرض اس موقعہ پر اور پیغام صلح میں متواتر مضامین اور ا ظہار حق کے ٹریکٹ میں جو کچھ لکھا گیا۔اس کو سب نے دیکھا۔حضرت خلیفہ اسی رضی اللہ عنہ اور جناب میاں صاحب کی ذات کے خلاف جو کچھ ان ٹریکٹوں اور اخباروں میں لکھا یہ لکھنے والے کے باطن کو اچھی طرح ظاہر کرتا ہے۔لیکن جلد ہی ( ایسا ہوا کہ ) حضرت خلیفتہ ایسے مرحوم رضی اللہ عنہ کی قدری طاقت نے (جماعت کو ) منتشر ہونے نہ دیا اور سب کو ایک راستہ پر چلایا۔مگر ٹھو کر خوردہ دل کب سنبھلتا تھا۔حضرت خلیفتہ المسیح رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو پھر موقعہ دیا اور یہ ہی ان بڑے بڑے لوگوں کے امتحان کا وقت تھا۔اب وہ ہی ٹریکٹ اظہار حق اور پیغام مصلح کے مضامین ان کی زبان پر ہیں۔جو پہلے گمنامی کے ساتھ شائع ہوئے تھے۔حالانکہ اس بات کو حضرت خلیفۃ اسح مرحوم نے لے کر دیا تھا کہ میرے بعد خلیفہ ہوگر خلیفہ کا نام تعین نہیں فرمایا کیونکہ وہ۔تو فرمایا کرتے تھے کہ خلیفہ خدا تعالے بنایا کرتا ہے۔آپ کے بعد کس کے ہاتھ پر بیعت کرنا نہ کرنا ہر ایک کا ناول ہے جس دل نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفتہ اُسی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرائی وہ دل اب بھی موجود ہے اور وہ ایمان اب بھی موجود ہے نہ اس وقت ہم کو کوئی مولوی یا اہل الرائے بیعت کرانے پر مجبور کر سکتا تھا اور نہ آج کسی کو یہ حق حاصل ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے ہمارے دل بھی مولا کریم کے ہاتھ میں ہیں وہ جس طرف چاہے لے جائے۔”پیغام صلح میں بہت سے مضامین شائع ہوئے ہیں جو زیادہ تر مولوی محمد علی صاحب کے قلم سے نکلے ہوئے ہیں اور ایک اعلان ڈاکٹر محمد حسین صاحب کی جانب سے جس میں لکھا ہے کہ قوم کے اہل الرائے کو پہلے مشورہ کرنے دو پھر وہ جو تجویز کریں اس پر عمل کرنا مگر ڈاکٹر صاحب نے ان اہل الرائے لوگوں کی فہرست نہیں دی۔ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ ان اہل الرائے کا انتخاب ڈاکٹر صاحب نے کہاں سے نکال لیا۔حضرت مسیح موعود