اصحاب احمد (جلد 10) — Page 23
23 مدد سے پہلے گھر پر سوال کر آتا اور پھر لڑکوں کو سکول میں پڑھایا کرتا۔حساب یا الجبرے میں مجھے کوئی مشکل کبھی پیش آتی تو مولانا محمد علی صاحب سے دریافت کر لیتا انہوں نے قادیان ہی میں رہائش اختیار کر لی تھی۔جیومیٹری چونکہ مولانا نے بھی نہیں پڑھی تھی اس لئے خود مجھے ہی سب کچھ کرنا پڑتا لیکن کبھی مجھے کوئی ایسی دقت پیش نہیں آئی جسے حل نہ کرسکوں۔مرز ا عزیز احمد کا کالج میں داخلہ :۔محترم مرزا عزیز احمد صاحب کو علی گڑھ کالج میں داخل کرانے کے لئے میں ان کے ساتھ گیا۔اور ضروری فرنیچر دبلی سے خرید کر پہنچایا۔اور ان کو اچھی طرح آگاہ کیا کہ علی گڑھ میں نئے طالب علم کو لڑ کے تنگ کرتے ہیں اور پنجابیوں کا خاص طور پر فاختہ اڑایا جاتا ہے۔ماسٹر صاحب کی بندوبست میں دوبارہ ملازمت لیکن جلد بعد قادیان کومراجعت علی گڑھ سے واپس آکر میں نے حضرت مرزا سلطان احمد صاحب سے محکمہ بندوبست میں پھر جانے کا ذکر کیا۔ان دنوں ضلع میانوالی میں بندوبست ہو رہا تھا اور مرزا صاحب نائب مہتم بندو بست تھے آپ کی کوشش سے میرا نام امید وار قانون گو کے طور پر بندوبست میں درج ہو گیا۔اور یکم دسمبر ۱۹۰۵ء کو میں نے پھر بندوبست میں کام شروع کر دیا۔امیدوار قانونگو ایک سال بندوبست میں کام کرنے کے بعد امتحان میں شامل ہوسکتا تھا۔مگر ڈیرہ اسماعیل خان کے بندوبست میں میں نے جو کام کیا تھا اسے بھی شمار کر کے ماہ مئی میں ملتان میں ہونے والے امتحان میں مجھے بھیج دیا گیا۔ان دنوں شیخ عبدالرحمن صاحب برادر شیخ رحمت اللہ صاحب ملتان میں ای۔اے۔سی تھے ان کے ہاں ٹھہرا اور امتحان دیا۔حساب اور مساحت میں تو مجھے تیاری کی ضرورت نہ تھی۔صرف قانون مال گذاری کی تیاری کرنی تھی۔وہ ایک ماہ میں دیکھ لیا تھا حساب اور مساحت کے سارے سوا ل میں نے حل کر دئیے اور قانون کے متعلق بھی پرچہ اچھا ہو گیا۔چنانچہ اچھے نمبروں میں پاس ہو گیا۔یہاں بھی میں نے بڑی محنت سے کام کیا پندرہ روزہ کارگذاری مہتم بندوبست کو بھیجی جاتی تھی کئی ایک پندرہ روزوں میں مجھے انعام ملا۔موضع پائی خیل کی سالم پڑی ب کا مکمل کام پیمائش سے لے کر کاغذات کی تکمیل تک میں نے خود کیا۔مگر قادیان کی رہائش کے بعد بندوبست میں میرا دل نہ لگتا تھا۔اگر چہ یہاں میرے لئے ترقی کا میدان بڑا وسیع تھا۔تمام افسر بھی مہربان تھے۔مرزا صاحب بھی بڑی مہربانی کرتے تھے۔چنانچہ جتنا عرصہ میں خاص میانوالی رہا۔مرزا صاحب کے مکان پر ہی رہتا تھا لیکن باوجود ان سب باتوں کے میرے لئے کوئی دلچسپی نہ تھی