اصحاب احمد (جلد 10) — Page 392
392 ایک طرف بٹھا دیئے۔اور مباحثہ میں حضور سے کہا گیا کہ لیجئے مسیح کی طرح ان کو ہاتھ لگا کر اچھا کر دیجیئے۔لوگ حیران تھے کہ اب حضرت اقدس کیا جواب دیں گے۔حضور نے لکھوایا کہ میں مسیح کے ایسے معجزہ کا قائل نہیں اگر آپ قائل ہیں اور دوسری طرف آپ کا یہ بھی ایمان ہے کہ جس شخص میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہے وہ وہی کچھ دکھا سکتا ہے۔جو مسیح دکھا سکتے تھے۔میں شکر گزار ہوں کہ مجھے ایسے بہاروں کی تلاش سے آپ نے بچالیا۔اب آپ ہی کا تحفہ آپ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔اگر آپ میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہے تو مسیح کی طرح آپ ان کو چنگا کر دیں یہ جواب سن کر پادریوں کی ہوائیاں اڑ گئیں۔اور انہوں نے جھٹ اشارہ سے ان لوگوں کو وہاں سے رخصت کر دیا۔☆ (۲) مباہلہ منشی حبیب الرحمن صاحب لکھتے ہیں۔” جب عبد اللہ آتھم کے ساتھ جو مباحثہ ہوا میں ساتھ تھا۔درمیان میں واپسی کے لئے اجازت طلب کرنے پر فرمایا کہ پرسوں کو مباہلہ ہوگا اس میں ضرور شامل ہوں۔چنانچہ میں مباہلہ کے وقت موجود تھا اور شامل مباہلہ ہو ا تھا۔دعا کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب مرحوم خلیفہ اول پر بے خودی طاری ہو گئی تھی۔مولوی محمد حسین بٹالوی اس میدانِ عید گاہ میں جہاں مباہلہ ہو ا تھا۔موجود تھا۔لیکن مباہلہ کے وقت دور جا کر وعظ کرنے لگا، شامل نہیں ہوا، مباہلہ کے بعد حضور علیہ السلام نے مولوی محمد حسین کے پاس پیغام بھیجا کہ تم بھی مباہلہ کر لو۔اب میں آیا ہوا ہوں مگر اس نے انکار کیا اور اس جگہ سے بھی چلا گیا۔( قلمی کا پی ۶۲) مباحثہ آتھم کے بعد مولویوں نے پھر شور مچایا کہ عیسائیوں کے ساتھ تو بحث ہو چکی اب ہمارے ساتھ بحث کر لو۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بھی لاہور سے ایک اشتہار بھیجا کہ میں مباہلہ کے لئے امرتسر آتا ہوں صرف مباہلہ ہوگا کوئی تقریر نہ ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جوابا ایک اشتہار میں لکھا کہ مولوی صاحب مجھ سے ہرگز مباہلہ نہیں کریں گے اور میرے سامنے تک نہیں آئیں گے۔دوسرے دن جو مباہلہ قرار پاچکا تھا۔عیدگاہ میں بہت ہجوم ہو گیا۔اور مولوی محمد حسین صاحب بھی اسی ہجوم میں اچھے فاصلہ پر جا کھڑے ہوئے لوگوں کا خیال تھا کہ مولوی صاحب جو تقریر کرنے لگے ہیں اس کے بعد وہ مباہلہ کریں گے مرزا صاحب نے لکھا تھا کہ یہ روایت حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب (سیرۃ المہدی حصہ اوّل نمبر ۱۷۶) منشی حبیب الرحمن صاحب بیان کرتے تھے کہ اس مباحثہ کے سلسلہ میں یہ واقعہ میرا چشمدید ہے۔(بیان بواسطه مولوی محب الرحمن صاحب) قلمی کاپی کے بیان میں (جو مباہلہ امرتسر کے سلسلہ میں آگے درج ہے) منشی صاحب اس مباحثہ میں اپنا موجود ہونا بیان کرتے ہیں۔