اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 348 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 348

348 کی اور ہم ( لوگوں نے ) جس قدر موجود تھے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی اس وقت حضور خود ہی نماز پڑھایا کرتے تھے اور لودیانہ ( میں ) مکان پر ہی نماز با جماعت پڑھتے تھے۔پھر (بعد نماز آپ ) بیٹھ گئے اور اپنے دعوی کے دلائل اور حالات زمانہ اور ضرورت مصلح پر تقریر فرماتے رہے۔عصر کی نماز کے بعد آپ زنانہ مکان کو تشریف لے گئے میں نے منشی ظفر احمد (صاحب) کو بھیجا کہ عرض کرو کہ میں اور باقی دونوں ساتھی داخل بیعت ہونا چاہتے ہیں۔اس زمانہ میں حضور بیعت ( قبول) کرنے میں بہت احتیاط فرمایا کرتے تھے۔اور ہر ایک سے جو بیعت کے لئے درخواست کرتا تھا، فرمایا کرتے تھے کہ ابھی ٹھہرو سوچ لو اور غور کر لو۔و منشی ظفر احمد صاحب میرے کہنے پر حضور کے پیچھے ہی گئے۔اور ڈیوڑھی میں حضور سے مل گئے۔اور میری اور باقی دونوں کی بیعت کی درخواست کے بارہ میں عرض کیا آپ نے کچھ دیر سوچ کر فرمایا میری بابت کہ یہ فہیم اور مستقل مزاج تو معلوم ہوتا ہے۔اچھا میں بیعت ( قبول ) کرلوں گا ان دونوں کی بابت بھی (منشی ظفر احمد صاحب نے ) عرض کیا کہ وہ بھی بہت معتقد ہیں۔اور دعوی کے متعلق پورے طور پر ان کا اطمینان ہو گیا ہے لیکن آپ نے منظور نہیں فرمایا پھر فرمایا کہ بعد نماز مغرب میں حبیب الرحمن کی بیعت لوں گا قبل از نماز مغرب حضور تشریف لائے نماز پڑھائی پھر فرمایا میری طرف مخاطب ہو کر کہ تم ٹھہر و۔باقی سب باہر چلے جائیں اس زمانہ میں حضور تنہا ہو کر ایک ایک کی بیعت لیا کرتے تھے چنانچہ حضور نے خاکسار ( کو ) داخل بیعت کیا اور دعا کی اور پھر فوراً اٹھ کر زنانہ مکان کی طرف تشریف لے گئے۔اس وقت باقی دونوں کو بیعت میں داخل نہیں فرمایا۔” دوسرے دن پھر ہم نے ان دونوں کی بیعت کے لئے سفارش کی پہلے تو صرف منشی ظفر احمد صاحب نے ہی عرض کیا تھا۔اب اس سفارش میں خاکسار نے بھی شرکت کی اور عرض کیا کہ روشن دین سمجھدار اور عربی پڑھا ہوا ہے۔اور دینی کتب کا مطالعہ کرتا رہتا ہے۔مسئلہ وفات مسیح کو خوب سمجھے ہوئے ہے۔اس پر حضور نے منظور فرما لیا کہ بعد نماز مغرب بیعت ( قبول) کروں گا۔چنانچہ اس دن بعد نماز مغرب ہم سب باہر چلے آئے اور آپ کمرہ میں بیٹھے رہے پہلے محبوب کو طلب فرمایا اور داخل بیعت کیا۔اس کے بعد روشن دین کو بلایا اور بیعت لی۔اس وقت روشن دین پر حضور کی توجہ کا اس قدر اثر ہوا کہ اس نے) چیخ چیخ کر رونا شروع کیا حضور بیعت کے بعد فوراً ہی زنانہ مکان کی طرف تشریف لے گئے روشن دین بے تحاشا حالت ربودگی میں حضور کے عقب میں دوڑا اور روتا جا تا تھا۔ہم نے اسے روکا کچھ دیر کے بعد اس کی حالت درست ہوئی اس وقت میں نے سوچا اور