اصحاب احمد (جلد 10) — Page 345
345 اسلام بتمام و کمال توجہ کے ساتھ پڑھی۔اس کو پڑھ کر میں کیا عرض کروں کہ میری کیا حالت ہوئی میرا ایمان ، میرا یقین اس درجہ پر پہنچا کہ گویا ایک آہنی کیل میرے قلب میں گڑ گئی۔وہاں نہ کوئی ثبوت تھا۔اور نہ کوئی دلیل ، نہ نظیر، معمولی الفاظ میں دعوی اور اسلام اور مسلمانوں کی موجودہ حالت کا فوٹو اور ترقی اسلام کی کسی قدرتدابیر، مگر میرا ادل تھا کہ ایمان ، عرفان اور یقین سے بھر گیا۔جب یہ پڑھ کر اٹھا تو دو بجے تھے راستہ میں جو ملا اس سے تذکرہ حق الیقین کے پیرا یہ میں کیا۔دوستوں میں اپنے یقین کا اعلان کر دیا۔اس وقت بذریعہ خط بیعت نہیں ہوتی تھی۔تاہم میں نے ایک عریضہ حضور علیہ السلام کی خدمت ( میں) لکھ دیا اور دوسروں سے بحث شروع کر دی۔مولوی رشید احمد صاحب کو پھر خط لکھا اور اس دعوی کی بابت دریافت کیا۔جواب آیا کہ تم اسی عقیدہ پر رہو جو خلف سلف سے چلا آتا ہے۔میں نے لکھا کہ حضرت مرزا صاحب کے مرید یہ یہ ثبوت پیش کرتے ہیں کیا جواب دوں؟ مگر پھر وہی جواب (آیا) کہ خلف سلف سے جو عقیدہ ہے،اس کو نہ چھوڑ و مگر میں نے خطوط کا سلسلہ ( شروع کر دیا۔جواب آیا کہ تم ان سے بات نہ کرو اور مشکوۃ کی ایک حدیث کا پتہ بتلایا پھر ایک (خط) میں لکھا کہ مرزا صاحب کو جنون ہو گیا ہے۔یہ سب خطوط میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس بھیج دیئے حضرت صاحب سے میری خط و کتابت رہی۔حضور نے تحریر فرمایا تھا کہ اگر کوئی اعتراض ہوتو لکھوتا کہ ازالہ اوہام میں اس کا جواب دیا جائے۔چنانچہ میں نے کئی اعتراض حضور کی خدمت بابرکت میں تحریر کئے۔جن کے جواب ازالہ اوہام میں موجود ہیں۔* خطوط وحدانی میں الفاظ (شروع) اور ( خط ) والا حصہ ورق وریدہ ہے ش کا ایک حصہ یعنی “ باقی ہے۔خط کا لفظ سیاق وسباق کے مطابق درج کیا گیا ہے۔مضمون منشی کظیم الرحمن صاحب مصدقہ منجانب حضرت منشی ظفر احمد صاحب میں یہ بھی درج ہے کہ منشی حبیب الرحمن صاحب کا رحجان حضرت اقدس علیہ السلام کی طرف ہوا تو حضور سے منشی صاحب نے خط و کتابت شروع کر دی اور سوالات تحریر کر کے جوابات منگواتے رہے۔منشی ظفر احمد صاحب نے بیعت کر لی تو ان کے ذریعہ (۲۵) بہت سے حالات معلوم ہوتے رہے۔مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کا کیا انجام ہوا اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر درج ہے۔حضور فرماتے ہیں۔” میں نے اپنے رسالہ انجام آتھم میں بہت سے مخالف مولویوں کا نام لے کر مباہلہ کی طرف ان کو بلایا تھا۔اور صفحہ ۶۶ رسالہ مذکور میں یہ لکھا تھا کہ اگر کوئی ان میں سے مباہلہ کرے تو میں یہ دعا (باقی اگلے صفحہ پر )