اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 344 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 344

344 آخرش میں نے مولوی رشید احمد (صاحب) کو خط لکھا کہ میں کسی سے بیعت کرنا چاہتا ہوں۔مگر اس قدر طریق ہیں کہ میں ان میں سے منتخب نہیں کر سکتا۔مجھے آپ سے عقیدت ہے۔لیکن جناب مرزا صاحب نے اس زمانہ کے مجدد ہونے دعوای فرمایا ہے، اگر یہ اطمینان ہو جائے کہ حضرت مرزا صاحب اس صدی کے مجدد ہیں تو پھر مجھے ان کی بیعت کرنی چاہئیے ، اگر ان کا دعوی ٹھیک نہیں ہے تو پھر میں دوسرے سے بیعت کروں۔اس لئے آپ حضرت مرزا صاحب کے متعلق اپنا خیال تحریر فرماویں۔میرے اس خط کے جواب میں مولوی رشید احمد صاحب نے جو خط بھیجا اس کا مضمون یہ تھا: میں نے جناب مرزا صاحب کی تمام تصانیف تو نہیں پڑھیں لیکن جس قدر پڑھی ہیں ان میں یہ ایک نئی بات پائی جاتی ہے کہ مخالفین اسلام کے اعتراضات کا جو جواب مرزا صاحب نے دیا ہے اس کا ثبوت قرآن شریف سے دیا ہے۔یہ ایک ایسی بات ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوئی۔اس لئے مرزا صاحب بے شک وشبہ مجددمان لینے کے قابل ہیں۔“ اس خط کے آنے پر میں نے قطعی فیصلہ کر لیا کہ میں حضرت صاحب سے بیعت کرلوں گا۔کیونکہ پہلے بھی اس طرف کشش پائی جاتی تھی۔اس کے بعد وہ واقعہ ہوا جو میں نے اس سے پہلے لکھا ہے۔یعنی دعوای مسیح موعود ( ہونا ) جس نے پھر مجھے خاموش کر کے تحقیق کی طرف متوجہ کر دیا۔اب آپس میں جو ہم باہم دوست تھے، تحقیقی طور پر گفتگو شروع ہوگئی۔ابھی تک فتح اسلام بھی شائع نہ ہوا تھا۔ہر وقت مجھے اس کا خیال رہتا۔میں نے بحث کو چھوڑ دیا اور دعا کی طرف طبیعت متوجہ ہوئی۔میں روز مرہ تہجد کی نماز پڑھ کر دعا مانگتا رہا۔آخر طبیعت پر اس طرح اطمینان ہوا کہ جب کتاب آ جائے گی پورا اطمینان ہو جائے گا۔میں اس وقت کلکٹری کے محکمہ میں کام سیکھتا تھا اور روز مرہ کچہری جاتا تھا۔منشی محمد خاں صاحب مرحوم بھی محکمہ اسٹنٹ مجسٹریٹ میں اہلمد تھے۔منشی ظفر احمد (صاحب) عدالت مجسٹر یٹی میں اپیل نویس تھے اور منشی اروڑا صاحب مرحوم مجسٹریٹی ( میں ) نقشہ نویس اہلمد برخاستگی عدالتوں کے وقت ہم سب مل کر واپس آیا کرتے تھے۔فتح اسلام کا روز مرہ انتظار رہتا تھا۔اور سب سے زیادہ مجھے انتظار تھا۔ایک دفعہ منشی اروڑا صاحب مرحوم قادیان تشریف لے گئے۔ایک دن دو پہر کو بارہ بجے کچہری سے فارغ ہو کر میں منشی اروڑ ا صاحب کے کمرہ میں گیا جہاں پر ہم سب واپسی کے واسطے جمع ہوا کرتے تھے۔میں نے دیکھا کہ منشی اروڑا صاحب واپس آگئے تھے۔ملاقات کے بعد میں نے کتابوں کی بابت دریافت کیا تو (انہوں نے) فتح اسلام، توضیح مرام مجھے دی میں شوق میں غرق تھا۔فوراً اپنے کمرہ میں واپس چلا گیا۔اور وہاں بیٹھ کر فتح