اصحاب احمد (جلد 10) — Page 343
343 مگر میں ٹھہرا اور ددو چار یوم کے بعد واپس آیا۔منشی محمد خان صاحب نے قبول کیا اور منشی اروڑ ا صاحب نے (بھی)۔منشی عبدالرحمن صاحب نے سن کر کہا کہ یہ منہ جھوٹ بولنے والا نہیں۔(قلمی کاپی صفحه ۲۸ و ۲۹) غشی حبیب الرحمن صاحب کا بیعت کر نالد حیا نہ پہنچ کر دعوای مسیحیت کی اشاعت سے پہلے حضرت منشی ظفر احمد صاحب اور فضل حسین مذکور کے قادیان جانے کا تذکرہ کر کے جو پہلے درج ہو چکا ہے۔معا بعد منشی حبیب الرحمن صاحب تحریر کرتے ہیں کہ۔میں نے تحقیق شروع کی۔اس سے پہلے میری یہ حالت تھی کہ میں نماز کا پابند نہ تھا اور تمام کنبہ میں محض میں ہی ایسا تھا۔باقی سب پابند تھے۔والد صاحب کو ہمیشہ اس کا خیال رہتا اور تنبیہ فرماتے رہتے تاہم مجھے اسلام سے محبت تھی۔سکول چھوڑنے کے بعد میں نے نماز کا پابند ہونا چاہا لیکن پوری پابندی نہ ہوئی۔تب میں نے ارادہ کیا کہ کسی بزرگ سے بیعت کروں تا کہ صحبت اور توجہ سے نماز کی پابندی اختیار کروں۔مرشد کے انتخاب کے لئے میں سوچتا رہا اور کئی وجود میرے ذہن میں آتے تھے۔لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خیال آتا تو زیادہ خیال اس طرف ہوتا۔میں نے سوائے اپنے دل کے کسی سے مشورہ نہ کیا۔اور خاموشی سے سوچتار ہا مولوی رشید احمد گنگوہی سے بوجہ اس کے کہ وہ حاجی امداداللہ صاحب مرحوم مہاجر مکہ کے خلیفہ اور حنفی المذہب تھے ، مجھے عقیدت تھی، جب میں ارادہ کرتا کہ ان سے بیعت کروں تو میرے قلب سے آواز آتی کہ حضرت مرزا صاحب اس زمانہ کے مجدد ہیں۔منشی ظفر احمد صاحب ایک دفعہ قادیان جارہے تھے منشی حبیب الرحمن صاحب نے اجازت طلب کی تاکہ وہ بھی جائیں لیکن حاجی ولی اللہ صاحب نے کہا کہ ابھی ٹھہر وواپس آکر منشی ظفر احمد صاحب نے بتایا کہ حضرت اقدس نے مسیح موعود اور مہدی ہونے کا دعوی کیا ہے۔منشی محمد اروڑا صاحب منشی عبداللہ صاحب اور منشی محمد خان صاحب نے فوراً یہ دعوے تسلیم کر لیا۔(مضمون منشی کظیم الرحمن صاحب مصدقہ منجانب حضرت منشی ظفر احمد صاحب مندرجہ الحکم ۲۸ ۱ جولائی ۱۹۳۵ء صفحہ ۸ کالم ۲۱) ”ہمارے اس مجمع میں جو سب ہم خیال تھے۔گو میں ابھی بیعت نہیں ہوا تھا منشی محمد خاں صاحب مرحوم ایک فہیم آدمی تھے۔اور جو بات زبان سے نکالتے سوچ کر اور غور کرنے کے بعد کہتے۔مجھے ان سے اور ان کو مجھ سے اس قدر محبت تھی کہ اکثر اوقات میں ہم ایک جگہ رہتے۔خدا تعالیٰ ان پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے۔(قلمی کا پی صفحہ ۲۶ تا ۲۸)