اصحاب احمد (جلد 10) — Page 328
328 محدود کیا گیا ہے؟ استمداد منعم حقیقی پر ہی کیوں تعلق چھوڑا نہیں گیا ؟ اب یہ عاجز اپنا حال عرض کرتا ہے کہ ابتداء سے عاجز کو مطالعہ کتاب کا خصوص دینی اور تواریخ کا اس قدر خیال ہے کہ ) جب کتاب دستیاب ہو کسی وقت صبر نہیں آتا جب تک اوّل سے اخیر تک مطالعہ نہ کر لی جاوے اور در باب خرید کتب ہائے کے کچھ شوق نہیں معلوم ہوتا، بلکہ روک ہو جاتی ہے۔کبھی اپنے ذہن میں مالیخولیا اس کو قرار دیتا ہوں اور کبھی بخل۔مگر یہ عادت بدلتی نہیں۔وجہ اس عادت کی یہ ہے کہ ایام شباب میں جب ایک دفعہ کسی کتاب کو مطالعہ کر لیا، یا کوئی واقعہ سن لیا یا سامنے گذر گیا ، جس وقت بر وقت ضرورت خیال کیا جاتا تھا، یاد آ جاتا تھا سہونہیں ہوتا تھا۔اور دوسری دفعہ کسی کتاب کو مطالعہ کرنے سے طبیعت نفرت کر جاتی تھی۔اب ذرا زیادہ غور سے یاد آتا ہے۔بلکہ جب کوئی خود ( ذکر ) کرے یاد آتا ہے جناب سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر یہ باعث بخل کے ہو تو دعا فرما دیں کہ خدا تعالیٰ نجات بخشے۔* حسب حال اپنے درخواست کرتا ہوں کہ یہ کتاب بندہ عاجز کو آپ محض خدا کے واسطے عطا فرما دیں اگر خدا کی مرضی ہے کیونکہ بندہ کا کچھ اختیار نہیں۔تو یہ عاجز حسبہ اللہ نہ بلحاظ قیمت محض بنظر حصول خوشنودی خداوند تعالیٰ کی ، زر نقد جلد ارسال خدمت کرے گا۔اگر اب کتاب عطا فرمانی ہو جس قدر اب تک طبع ہو چکی ہے تو ۲۷ جنوری سے پہلے عطا فرمائی جاوے۔کیونکہ بندہ اس درمیان میں غیر حاضر اپنے مقام سے رہے گا۔اپنے وطن قصبہ سراوہ چوکی کہر کہودہ ضلع میرٹھ میں جائے گا انشاء اللہ تعالیٰ اور اگر بعد تاریخ مندرجہ بالا عنایت کرنی ہو تو ۸ فروری تک مقام مندرجہ بالا میں ارسال کرنی چاہیئے اور پھر کپورتھلہ میں بھیج دینی مناسب ہے اگر وطن میں پہنچ جاوے گی ، امید ہے وہاں دیکھ کر اور بہت خواہشمند ہوں اور خیالات جو اس عاجز گنہگار کے دل میں واسطے دین کے مستحکم ہوئے تھے۔ان میں سے اکثر تو مطالعہ کتاب سے ظاہر ہو گیا کہ اس کتاب نے پورے کر دیئے اور امید ہے کہ اتفاق بھی جیسی ضرورت ہے اس سے پیدا ہو اور نفاق کی بیخ کنی ہومگر یہ خیال کہ عام خاص مسلمان پانچوں شرائط اسلام بجالایا کریں یا جس میں نقص ہے اس کو پورا کریں تب ترقی ہوگی اور منجملہ اس کے ایک زکوۃ ہے جو اب فرض ہونا اس کا عام لوگوں کے خیالات سے مفقود گیا ہے۔اس کو زور دے کر رواج دیا جاوے۔یہ اپنا خیال اکثر واعظوں پر ظاہر کیا گیا اور کئی سے موقع موقع پر جتلایا گیا کہ مجلس اور کمیٹی مقرر کر کے کیوں اس کو جاری نہیں کرتے جس سے ایسے اخراجات دینی کے اور چندہ وغیرہ بآسانی دئے جاسکیں۔صاحبانِ امرتسر نے چرم قربانی منشی حبیب الرحمن صاحب نے بواسطہ شیخ عبدالرحمن صاحب بیان کیا کہ حاجی صاحب کا حافظہ الیسا تھا کہ اگر وہ کسی کتاب کا مطالعہ کرتے تو اس کا صفحہ اور سطر تک ان کو یا د رہتی۔اعلیٰ حکام نے بھی آزمائش کی اور آپ کے حافظہ کو قابل قدر پایا تھا۔