اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 321 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 321

321 اگر کتاب کی خرید وفروخت کا تعلق نہ ہوتا تو ہر گز امید نہ تھی کہ آپ کے قلم سے ایسے الفاظ نکلتے۔پس اس سے ثابت ہوا کہ ایسے منحوس تعلق نے آپ جیسے بزرگ کی طبیعت کو آشفتہ کیا۔اور ابھی معلوم نہیں کہ آشفتگی اور پریشاں بدظنی بقیه حاشیه سابقه : گویا ۲۳ دسمبر ۱۸۸۶ء کے مکتوب کا جواب نہ آنے پر حضور نے جنوری ۱۸۸۷ء میں یاد دہانی کروائی تھی۔(۲) سہو۔حاجی صاحب کے پاس ۱۹۳۸ء یا ۱۹۳۹ء بکرمی میں براہین احمدیہ موجود تھی تصحیح:۔اولاً حاجی صاحب نے براہین احمدیہ حصہ سوم وحصہ چہارم مطالعہ کے لئے کسی سے مستعار حاصل کئے تھے اور حصہ چہارم کا سنِ طباعت ۱۸۸۴ء ہے جو مطابق ہے۔۳ پوس ۱۹۴۰ء / ما گھر ۱۹۴۱ء بکرمی کے گویا ۱۹۳۸ اور ۱۹۳۹ بکرمی میں تو ابھی براہین احمدیہ کے یہ قصص طبع ہی نہیں ہوئے تھے۔(۳) سہو۔التوائے براہین احمدیہ کی وجہ سے حاجی صاحب نے وعدہ شکنی کے الزامات لگائے جن کا جواب ملنے پر حاجی صاحب ان الزامات سے باز آ گئے اور انہوں نے دعوی مجد دیت کے بارے سوال کئے۔صحیح ترتیب یہ ہے کہ اولاً حاجی صاحب کی طرف سے مجددیت کے بارے سوالات ہوئے جس کا ثبوت حضور کا جواب ہے۔جو ۳۰ دسمبر ۱۸۸۴ء کارتم فرمودہ ہے۔بعدۂ حاجی صاحب نے التوائے طبع براہین احمدیہ کے بارے اعتراض کیا جس کا جواب حضور نے اس مکتوب میں دیا جس کی صحیح تاریخ او پر ۲۳ دسمبر ۱۸۸۶ء بتائی گئی ہے۔(۴) سہو:- آخر ۱۸۸۴ء تک حضور سے حاجی صاحب نے قطع تعلق کر لیا تصحیح:۔جب التوائے طبع براہین احمدیہ کے بارے حاجی صاحب نے اعتراض کیا تھا تو حاجی صاحب کے حضور سے تعلق میں کمی آئی تھی پھر حاجی صاحب نے معافی طلب کر لی اور سہ ماہی اوّل ۱۸۸۹ء تک ان کا تعلق حضور سے قائم رہا۔عنوان ” حاجی محمد ولی اللہ صاحب کی آخری حالت کا جائزہ میں تفصیل درج ہے۔