اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 307 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 307

307 منشی حبیب الرحمن صاحب اپنے خاندان کے حالات کے سلسلہ میں رقم فرماتے ہیں کہ ”میرے دادا شیخ امیر علی صاحب مرحوم نے اپنے جدید رشتہ کی وجہ سے اپنی سکونت مستقل طور پر قصبہ سراوہ ضلع میرٹھ میں تبدیل فرمائی جو بوڑھانہ سے تمہیں کوس کے فاصلہ پر جانب جنوب واقع ہے۔یہاں بھی اس قوم کی بکثرت آبادی تھی اور یہ ہی اپنی قوم میں سر بر آوردہ سمجھے جاتے تھے۔شیخ امیر علی صاحب کے دو فرزند تھے حاجی محمد ولی اللہ صاحب مرحوم اور منشی محمد ابوالقاسم صاحب مرحوم۔حاجی صاحب مرحوم کے اولاد نہ تھی اور منشی محمد ابوالقاسم صاحب کے دوفر زند ہوئے۔حافظ فضل الرحمن مرحوم اور احقر العباد حبیب الرحمن۔“ حاجی محمد ولی اللہ صاحب مہاراجہ رندھیر سنگھ والی کپورتھلہ کو اپنی ریاست کا بندو بست (سیٹلمنٹ ) کرانے کے لئے کسی اس قابلیت کے مالک شخصیت کی ضرورت تھی۔سو۱۸۶۳ء کے قریب حاجی محمد ولی اللہ صاحب نے سرکا را نگریزی کی ملازمت ترک کر دی اور اس ریاست کی ملازمت اختیار کر لی۔(بیان منشی حبیب الرحمن صاحب) حاجی صاحب سرکار انگریزی میں بعہدہ فنانشنل کمشنر فائز تھے۔لیکن ان کو انگریزی سرکار کی ملازمت نا پسند تھی۔انہوں نے منت مانی تھی کہ اگر انہیں کوئی ریاستی ملازمت میسر آجائے تو وہ حج کریں گے۔انگریزی علاقہ میں وہ اضلاع جالندھر وغیرہ کے بطور متہم بندوبست سرانجام دے چکے تھے اور آپ کی دیانت و قابلیت کا شہرہ دور دور تک پہنچ چکا تھا۔سو اس ریاست کی ملازمت حاصل ہونے پر آپ نے اپنی نذر پوری کرنے کے لئے ۱۸۶۹ ء یا ۱۸۷۰ء میں حج کیا۔( بیان مولوی محب الرحمن صاحب) مولوی محب الرحمن صاحب مزید یہ قابل ذکر بات بھی بیان کرتے ہیں کہ حاجی صاحب کی شہرت کے باعث والی بھوپال کی طرف سے پانصد روپیہ مشاہرہ اور دوصد روپیہ بستہ فوجی پہرہ ، ہیں ارد لی اور آراستہ رہائشی مکان کی پیشکش آئی۔راشن بشمول زعفران عطریات ، مشک ، وغیرہ وغیر ہ ”بستہ کہلاتا تھا۔موصولہ روبکار ( پیشکش ) حاجی صاحب نے مہاراجہ صاحب کی خدمت میں پیش کی تو انہوں نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا آیا آپ مجھے چھوڑ کر بھوپال چلے جائیں گے۔آپ نے جوا با بتایا کہ ہم مسلمان زبان کے پابند ہوتے ہیں چونکہ میں آپ سے زبان کر چکا ہوں آپ کے اجازت دیئے بغیر میں وہاں نہیں جاؤں گا۔مہا راجہ صاحب باور نہیں کر سکتے تھے کہ واوین کے درمیان عبارت قلم کا پی صفحہ ے کی ہے۔بقیہ مضمون اس کا پی اور مضمون منشی کظیم الرحمن صاحب مصدقہ منجانب حضرت منشی ظفر احمد صاحب مندرجہ الحکم ۲۸ جولائی ۱۹۳۵ء صفحہ ۷ کالم ۲۱ سے اخذ کردہ ہے۔