اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 302 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 302

302 میرے ر بعض دوست تعجب کرتے ہوں گے کہ میں کپورتھلہ کا ذکر کیوں چھیٹر بیٹھا ہوں۔عزیز و! یہ بلا وجہ نہیں آپ جانتے ہیں ( کہ ) انسان کو اپنے محبوب کا ہر ایک فعل پیارا لگتا ہے۔کپورتھلہ کی سڑکوں اور گلیوں اور مکانوں کو یہ فخر حاصل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دو دفعہ وہاں صرف اپنے مخلص دوستوں کی ملاقات کے واسطے تشریف لے گئے تھے اور آپ نے ان تمام مکانات اور باغات کی سیر کی تھی۔کپور تھلہ کے احمدی برادران حضرت اقدس کے پرانے دوستوں میں سے ہیں جبکہ حضور علیہ السلام نے کوئی دعوای مسیحیت یا مہدویت کے متعلق نہ کیا تھا اس وقت سے یہ صاحبان حضرت صاحب کے ملنے والے ہیں ریاست میں ایک وزیر حاجی ( ولی اللہ ) صاحب کے نام سے مشہور گزرے ہیں۔انہوں نے کتاب براہین احمد یہ منگوائی تھی جس کو برادر مکرم منشی ظفر احمد صاحب منشی محمد اروڑا صاحب ، خاں صاحب محمد خاں (صاحب) مرحوم۔ومنشی عبدالرحمن صاحب نے دیکھا اور حضرت اقدس کی ملاقات کے واسطے تشریف وو (14)66 لائے۔تب سے یہ دوست حضرت اقدس کے ساتھ ایک ایسا دلی تعلق ، محبت اور اخلاص کا رکھتے ہیں کہ کوئی امر کبھی ان کے واسطے ابتلاء کا موجب نہیں ہوسکا۔۔مفتی صاحب نے اس عرصہ قیام میں احباب کپورتھلہ کو ( تحریری ) خطاب میں فرمایا: - پیارے بھائیو اور معزز دوستو! خدا کی رحمت ہو تم پر اور اس کا فضل کہ تم میرے پیارے کے پرانے رفیق اور عاشق مزاج خادم اور دلدادہ مرید ہو۔اسی محبت کے تقاضا سے جو تم کو اللہ کے رسول کے ساتھ تھی اور ہے، ہم نے بارہا چاہا کہ تمہارے پیارے مسیح کا یہ خادم تمہارے شہر میں آوے۔۔۔۔الغرض یہی مقد رتھا کہ میں ایسے وقت میں آؤں جب کہ ہمارا پیارا امام اس دنیا سے چلا گیا ہے۔گویا میں تمہارے محبوب اور معشوق کی ماتم پرسی کے لئے آیا ہوں کیونکہ تم اس امر کے حقدار ہو کہ تمہارے ساتھ یہ ہمدردی کی جائے۔تمہارے تعلقات اس پیارے کے ساتھ بہت پرانے تھے۔تم اس کے پرانے یار اور وفادار دوست اور غمگسار فریق اس کی آخری عمر تک رہے۔تم سب سے پہلے آئے اور آخر دم تک رہے۔تمہارے دلوں کو جو صدمہ اس کی جدائی سے پہنچا ہے وہ تمہارے ہی دل جانتے ہیں، میں اس کا کیا اندازہ کروں ؟ مگر میرے دوستو! صبر سے کام لو تم اس کے عاشق تھے۔تمہارا عشق بہت بڑا تھا۔تم اس کے دیدار کے خواہشمند تھے ،تو وہ بھی اپنے محبوب کے وصال کا آرزومند تھا۔اس نے بہت صبر کیا جو اتنے سال تمہارے درمیان رہا مگر کب تک؟ آخر وہ اپنے پیارے کے پاس چلا ہی گیا۔اور اس کی آخری کلام یہی تھی کہ ”اے میرے پیارے اللہ۔اے میرے پیارے الله