اصحاب احمد (جلد 10) — Page 300
300 ساٹھ روپے دینے کی متحمل ہو سکے گی ؟ منشی صاحب نے اثبات میں جواب دیا اور کپورتھلہ پہنچ کر اپنی اہلیہ کا سونے کا زیور فروخت کر کے ساٹھ روپیہ لے کر اُڑ گئے اور رقم پیش کر دی۔چند روز بعد منشی اروڑ ا صاحب لدھیانہ گئے تو حضور نے ان سے فرمایا کہ آپ کی جماعت نے بڑے اچھے موقع پر امداد کی انہوں نے عرض کی کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں اور منشی ظفر احمد صاحب سے بہت ناراض ہوئے اور حضور سے عرض کیا کہ انہوں نے ہمارے ساتھ بہت دشمنی کی کہ ہم کونہیں بتایا۔منشی ارور صاحب ایک عرصہ تک منشی ظفر احمد صاحب سے ناراض رہے کہ اس قربانی میں وہ شریک نہ ہو سکے تھے۔یہ تھی روح جماعت کپورتھلہ کی قربانیوں میں۔اسی طرح حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی تقریروں میں بار ہا یہ بیان ہوا ہے کہ آپ کے پاس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد منشی اروڑا صاحب کچھ اشرفیاں لے کر حاضر ہوئے اور بے تاب ہو گئے۔( کہ حضور کی خدمت میں پیش کرنے کے قابل ہوئے تو حضور کا وصال ہو گیا۔) جماعت کپور تھلہ کی اہمیت اس لحاظ سے بھی ہے کہ کپورتھلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کئی نشانات ظاہر ہوئے سب سے بڑا نشان وہاں کی مسجد کے متعلق ہے کہ حضور نے فرمایا کہ اگر ہمارا سلسلہ سچا ہے تو یہ مسجد تم لوگوں کومل جائے گی۔چنانچہ بالآ خر مقدمہ میں جماعت احمد یہ فتح یاب ہوئی۔ایک ہی نشان ظاہر ہوا کہ حضرت منشی محمد خان صاحب کی وفات کے بعد حضرت اقدس کو یہ الہام ہوا کہ ان کی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کیا جاوے گا معجزانہ رنگ میں اس کی تجلی ظہور میں آئی۔بہت سے لوگ کوشش کر رہے تھے کہ بگھی خانہ کی افسری جو خان صاحب کی وفات سے خالی ہوئی تھی ان کو ملے لیکن مہاراجہ نے ولایت سے واپس آتے ہی خان صاحب کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے آپ کے فرزند خان صاحب عبدالمجید خان صاحب کے تقرر کے احکام د یے اور بھی متعد دنشانات کپورتھلہ میں سلسلہ کے دشمنوں پر قہری تجلی کے رنگ میں ظاہر ہوئے۔ایک صداقت کا نشان حضرت منشی عبدالرحمن صاحب نے بیان کیا کہ اس ریاست کے موضع شیر انوالی کے مہتاب نام احمدی نے جس سال اس گاؤں میں سخت طاعون پڑی، اپنے کوٹھے پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا کہ اے لوگو! جس نے طاعون سے بچنا ہے وہ میرے گھر میں داخل ہو جائے اس پر بہت سے غیر از جماعت افرادان کے گھر میں آگئے۔موصوف نے دعا کی کہ اے اللہ! اگر تیر امسیح سچا ہے تو ان کو طاعون سے بچالے۔خدا کی قدرت جولوگ ان کے گھر میں آئے ان میں سے کوئی بھی طاعون سے نہ مرانہ بیمار ہوا، گاؤں کے اور بہت سے لوگ مر گئے۔کپورتھلہ کی جماعت کی یہ بھی ایک خصوصیت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی اولاد کے ساتھ ملائم سلوک کیا جائے گا۔(تذکرہ صفحہ ۴۱۸ طبع ۲۰۰۴ء)