اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 10 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 10

10 حضرت خلیفہ اول کی محبت :۔حضرت خلیفہ اول غرباء سے بہت شفقت سے پیش آتے تھے۔اس سلسلہ میں ڈاکٹر صاحب نے ایک واقعہ بیان کیا ہے۔جو حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب کے الفاظ میں ( جو دستیاب ہو گئے ہیں ) درج ذیل کیا جاتا ہے۔یہ آپ کے ڈاکٹری پاس کر لینے کے وقت کا ہے۔حضرت میر صاحب نے مسجد، شفا خانہ و دار الضعفاء ( ناصر آباد نز د بہشتی مقبرہ) کے لئے تحریک کرتے ہوئے تحریر فرمایا :- حضرت خلیفہ المسیح' ہمیشہ میرے کاموں میں مددفرماتے رہتے ہیں۔چنانچہ چھ سوروپے کے قریب مسجد ہسپتال و دار الضعفاء کے لئے عطا فرما چکے ہیں۔ایک دفعہ مسجد میں آپ نے فرمایا کہ میر صاحب عطر دین پاس ہو گیا ہے میں نے عرض کی کہ مجھے نہیں معلوم۔کیونکہ میرے ضعفاء کے لئے کچھ نہیں دیا۔فورا حضرت خلیفہ مسیح نے اپنی جیب سے ایک روپیہ نکال کر عطر دین کو دیا کہ میر صاحب کو دیدے۔‘ (7) یوں معلوم ہوتا ہے گویا ڈاکٹر صاحب جیسے غریب فرد کی کامیابی پر حضرت خلیفہ اول نے اپنی فرط انبساط کا اظہار حضرت میر صاحب سے بھی کر دیا۔پھر میر صاحب کی دعا کے لئے ڈاکٹر صاحب کو اپنے پاس سے ایک روپیہ دیا۔نیز ڈاکٹر صاحب کو اس ٹھیس سے بچالیا کہ میرے پاس چندہ کے لئے رقم نہیں میں اس موقع پر چندہ دے کر شکریہ ادا نہیں کرسکا نہ حضرت میر صاحب سے دعالے سکا۔حضرت مسیح موعود کے عہد مبارک کا ایک اور واقعہ ڈاکٹر صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مولوی صاحب (خلیفہ اول) قادیان سے لاہور تشریف لے گئے اس وقت دھوپ کی شدت تھی اور بلا کی گرمی پڑ رہی تھی۔ڈاکٹر صاحب نے کیسری کی دکان کا سوڈا برف پیش کیا جو حضرت مولوی صاحب نے قبول تو فرمالیا لیکن ایک غریب طالب علم پر چند پیسوں کا بوجھ ڈالنا بھی آپ نے پسند نہ فرمایا۔اور معاً اپنے شاگر دحکیم غلام محمد صاحب امرت سری سے فرمایا کہ یہ طالب علم ہیں ان کو سوڈا واٹر کی قیمت ادا کر دو تا کہ ان کو خرچ کی تکلیف نہ ہو۔چنانچہ ڈاکٹر صاحب کو بمطابق الامرُ فَوقَ الأَدَبُ قیمت قبول کرنی پڑی۔ملا زمت :۔پہلے آپ وٹرنری محکمہ میں ملازم ہوئے۔اور ملازمت کے تعلق میں بھیرہ۔راولپنڈی۔کوہالہ میانوالی، گجرات وغیرہ مقامات میں آپ متعین رہے۔ابتداء آپ تمیں روپے مشاہرہ پاتے تھے۔۱۹۱۲ء ۱۹۲۰ء تک آپ نے فوج میں ہیڈ وٹرنری کے طور پر ملازمت کی۔پہلے پونا، پھر مسقط ، بغداد، بصرہ اور برما میں آپ متعین