اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 9 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 9

9 اس پر حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب آپ پھر مقابلہ کر لیں۔چنانچہ دوسری دفعہ کے مقابلہ میں بھی ڈاکٹر صاحب نہ جیت سکے لیکن دوسری بار بھی آپ نے ریفری کے فیصلہ کے مطابق اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ڈاکٹر صاحب کے اصرار پر حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ اگر آپ کا شبہ دور نہیں ہوا تو سہ بارہ مقابلہ کر لیں چنانچہ تیسری بار کی دوڑ میں بھی ڈاکٹر صاحب ہی ہار گئے جس پر آپ اپنی شکست ماننے پر مجبور ہوئے۔یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے مقدس آقا کے صاحبزادگان کے حضور کے خدام کے ساتھ کتنے بے تکلفانہ تعلقات تھے۔اور اس میں اسلامی اخوت و مودت کا کیا خوشنما رنگ پایا جاتا تھا اور صاحبزادگان کبر ونخوت اور حقارت و نفرت کے جذبات سے یکسر خالی تھے۔وصال حضرت اقدس و بیعت خلافت اولی: - حضرت مسیح موعود کے وصال کے وقت ڈاکٹر صاحب ابھی وٹرنری کالج لاہور میں تعلیم پاتے تھے۔حضور کے وصال کی خبر سننے پر آپ احمد یہ بلڈنگز پہنچے اور حضور کی مبارک پیشانی پر بوسہ دیا۔اور جنازہ کی معیت میں بٹالہ اور وہاں سے پیدل جنازہ مبارک کے ساتھ قادیان پہنچے اور کندھا دینے کا موقع ملا۔اور ظہور قدرت ثانی کے موقع پر حضرت خلیفتہ المسیح اول کے دست مبارک پر بیعت کی اور حضور کے جسد مبارک کی آخری زیارت کی اور تدفین میں شریک ہوئے۔بعد تد فین حضرت چوھدری فتح محمد صاحب سیال محترم شیخ محمد تیمور صاحب ( حال ریٹائر ڈ پرنسپل۔پشاور ) اور ڈاکٹر صاحب تینوں شہر کو واپس آرہے تھے کہ بڑے باغ کے کنویں کے پاس کسی نے پیچھے سے ڈاکٹر صاحب کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔مُڑ کر دیکھا تو حضرت خلیفہ اول تھے۔فرمایا۔میاں عطر دین ! کیا محمد علی نے میری بیعت کی ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے عرض کیا کہ انہوں بیعت کی ہے۔ڈاکٹر صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس وقت اپنے ساتھیوں کو بتادیا تھا کہ مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کے متعلق یہ بات حضور نے دریافت فرمائی ہے۔ڈاکٹر صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضور کا یہ سوال بہت معنی خیز تھا۔اور اس سے عیاں ہے کہ حضور کو بعض یقینی امور کی بناء پر یہ خدشہ ہوگا کہ شاید مولوی محمدعلی صاحب کو آپ کی بیعت کرنے پر انشراح نہ ہو۔مقدس جنازہ کے ہمراہ لاہور سے بٹالہ تک ریل میں آنیوالے بعض احباب کے نام بدر میں درج ہیں ان میں آپ کا نام عطر دین بھی مرقوم ہے(6)