اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 7 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 7

7 دوڑ کا مقابلہ ہوا۔ریفری حضرت میجر ڈاکٹر سید حبیب اللہ صاحب مرحوم مقرر ہوئے۔حضرت صاحبزادہ صاحب جیت گئے لیکن ڈاکٹر صاحب کو اپنے تیز دوڑنے پر اس قد راعتماد تھا کہ آپ نے اپنی شکست تسلیم نہ کی۔بقیہ حاشیہ :۔اور سبب دریافت کرنے پر بتایا کہ میں اپنے پیر کے قدموں میں زندگی کے باقی ماندہ ایام بسر کرنا چاہتا ہوں مہاراجہ نے کہا کہ اب آپ کی پنشن میں صرف چار سال باقی ہیں اس کے بعد آپ جاسکتے ہیں۔والد صاحب نے جواب دیا کہ عمر کا کیا اعتبار کہ چار سال اور زندہ رہوں اور پھر میں اپنے پیر کے قدموں میں جا کر رہوں۔میرے اہل وعیال قادیان میں ہیں اور میں بدنصیب یہاں پر ہوں۔میں اب اپنے مرشد کی جدائی ہرگز برداشت نہیں کر سکتا۔سو آپ ملازمت چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے قادیان آگئے اور اب آپ کا مزار بھی قطعہ خاص میں ہے۔میرے پاس حضور پر نور کے کرتے کا ٹکڑا ہے جو کہ ہم سب بہن بھائیوں کو والد صاحب کی طرف سے ملا ہے یہ یاد نہیں کہ کب ملا کیونکہ میں اکثر بمبئی رہتی تھی۔خیال ہے کہ والد صاحب کی زندگی میں ملا تھا۔جب ابتدا میں مسجد برلن کے لئے چندہ کی تحریک ہوئی تھی تو میں نے دو عد د سونے کی انگوٹھیاں جن کا وزن ایک تولہ تھا اور پازیب اور ایک گائے چندہ میں دی تھی اس چندہ میں مستورات نے زیادہ تر اپنے زیورا تار کر دیے تھے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد برلن و مکانات مبلغین کے لئے نصف لاکھ روپیہ کے چندہ کی تحریک خواتین میں کی اور پہلے ہی موقع پر خواتین قادیان نے ساڑھے آٹھ ہزا روپیہ چندہ دیدیا اور عجیب عجیب نمونے قربانی کے دکھائے۔فجزاهن الله احسن الجزاء حضور اس بارہ میں تحریک کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔"قادیان کی احمدی خواتین کی اس کوشش اور اخلاص کا اظہار کر کے اپنی دوسری بہنوں کو مخاطب کرتا ہوں کہ وہ۔۔۔۔۔۔بھی اسی اخلاص سے اس کام کے لئے چندہ دیں گی۔اگر قادیان کی عورتیں ساری رقم میں سے قریباً پانچواں حصہ دے سکتی ہیں تو باہر کی عورتیں بقیہ چار حصہ کیوں ادا نہیں کرسکتیں۔یقیناً وہ اگر قادیان کی عورتوں سے چوتھا حصہ بھی اخلاص دکھائیں تو اس رقم کو آسانی سے ادا کر سکتیں ہیں (4) نوٹ از مئولف :۔قاضی محمد عبداللہ صاحب کے رشتہ کے متعلق محترمہ کو سہو ہوا ہے ابتدائی تحریک رشتہ کی مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے ۱۹۰۷ء میں ہوئی اور بعدہ سید صاحب نے حضرت اقدس سے دریافت کیا تو حضور نے بھی پسند فرمایا اور نکاح کر دیا گیا۔اس وقت قاضی صاحب صدر انجمن احمد یہ قادیان کی ملازمت میں آچکے تھے (5) حاشیہ در حاشیہ سیدہ نصرت بانو صاحبہ نے جو چندہ مسجد برلن کے لئے دیا تھاوہ الفضل میں درج نہیں۔وہاں ایک دفعہ کی فہرست شائع ہوئی تھی بدر میں شائع نہیں ہوئی۔شاید اس لئے درج نہیں ہو سکا۔