اصحاب احمد (جلد 10) — Page 249
249 نے جود دیوار بنائی تھی۔وہ بھی میں نے دیکھی تھی۔یہ بارہا حضور کے ہمراہ سیر کرنے اور ہمیشہ مسجد مبارک میں حضور کی مجالس میں شریک ہونے کا موقع ملتا رہا۔۱۹۰۵ء میں جب حضور بڑے باغ میں کئی ماہ تک مقیم رہے تو مجھے اس عرصہ میں دیگر بہت سے احباب وطلبہ کی طرح رات کو پہرہ دینے کا موقع ملتا رہا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب ہر دو کی نماز جنازہ اور تدفین میں شریک تھا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کو ابتداء میں روڑی قبرستان میں دفن کیا گیا تھا۔میاں عبدالکریم صاحب حیدر آبادی کو جو باؤلے کتے نے کاٹا اور ان پر آثار دیوانگی ظاہر ہوئے۔اور ان کو بورڈنگ سے الگ ایک جگہ رکھا گیا۔اس وقت میں قادیان میں تھا۔ملا ہے امرت سر میں کنھیا لال کے منڈوے میں جب حضور کی تقریر ہوئی۔اور اس وقت حضور کی خدمت میں چائے پیش کی گئی جس کے پینے پر ہنگامہ آرائی ہوئی۔اس جلسہ میں میں بھی موجود تھا۔* * * * حضور جب بھی بٹالہ اور گورداسپور میرے عرصہ قیام میں مقدمات کی خاطر تشریف لے جاتے رہے۔میں بھی ساتھ جاتا تھا۔ہم نوجوان رتھ وغیرہ کے ساتھ پیدل جاتے تھے۔جب بمقد مہ کرم دین۔حضور گورداسپور میں متواتر کافی دنوں تک مقیم رہے اس وقت بھی میں شریک سفر تھا۔اور جب حضور اقدس کو آریہ مجسٹریٹ نے ہتھکڑی لگانے کا پروگرام بنایا۔اور حضور کو خون کی قے آگئی اور ڈاکٹری سارٹیفیکیٹ بھجوا کر حضور قادیان تشریف لے آئے۔***** اس اس موقع پر بھی میں گورداسپور میں تھا۔اور حضور کے ہمراہ واپس آ گیا تھا۔سفروں میں حضور کی امامت میں دو تین دفعہ نمازیں پڑھنے کا بھی مجھے موقع ملا ہے۔دعا کے لئے قادیان میں اور لاہور سے حضور کی خدمت میں چٹھیاں لکھتا تھا۔ان کے جواب حضور کے قلم سے نوشتہ ملتے تھے۔افسوس کہ ان میں سے ایک بھی محفوظ نہیں رہا۔یہ دیوار اوائل ۱۹۰۰ء میں تعمیر ہوئی تھی اور حسب حکم ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ۲۰ اگست ۱۹۰۱ء کوگرائی گئی۔باغ میں حضور کا قیام اپریل تا جون ۱۹۰۵ء رہا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اکتوبر ۱۹۰۵ء کو فوت ہوئے اور روڑی نام قبرستان میں جو جانب شرق ہے تدفین عمل میں آئی اور ۲۷ دسمبر کو بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا۔وہاں آپ ہی سب سے پہلے دفن ہو نیوالے تھے۔مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب ۶ استمبر ۱۹۰۷ء کو فوت ہوئے۔☆☆☆ باولے کتے کے کاٹنے والا واقعہ ۱۹۰۶ ء کا ہے۔اور دہلی اور لدھیانہ سے واپسی پر 9 نومبر ۱۹۰۵ء کو امرت سر میں حضور کی تقریر ہوئی تھی۔یہ ۱۶ فروری ۱۹۰۴ء کی بات ہے۔