اصحاب احمد (جلد 10) — Page 228
228 تائید خلافت :۔آپ ہمیشہ سے خلافت کے مؤید رہے ہیں۔خلافت اولی میں بعد میں ہونیوالے مخالفین خلافت کے فتنہ کا آغاز ہو چکا تھا۔وہ تمام حالات آپ ہی کے سامنے گذرے ہیں۔آپ ۱۹۱۱ء یا ۱۹۱۲ء میں بعد استخارہ انجمن انصار اللہ کے ممبر بن گئے تھے۔یہ فروری ۱۹۱۴ ء سے سیکرٹری انجمن انصار اللہ حضرت حافظ روشن علی کے دستخط سے روزانہ حضرت خلیفہ اول کی حالت کے متعلق اطلاع موصول ہوتی تھی۔اس وقت مولوی صاحب چک ۹۹ شمالی سرگودھا میں تھے۔۴ مارچ کے متعلق اطلاع ملی کہ حضور کی حالت تشویشناک ہے۔جو دوست زیارت کرنا چاہیں وہ ہفتہ عشرہ کے اندر آجائیں۔چنانچہ آپ امارچ کو قادیان پہنچے۔سیالکوٹ میں آپ کو حضرت چوہدری نصر اللہ خانصاحب نے بتایا تھا کہ قادیان میں خلافت کے متعلق دو گروہ ہیں۔آپ قادیان پہنچے تو کوٹھی دارالسلام پہنچے اس وقت آپ کی موجودگی کا واقعہ ہے کہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے حضور کو دہی پلایا جو قے ہو گیا۔ہوش و حواس قائم تھے۔مولوی صاحب کے سلام کا جواب دیا۔اور خیر و عافیت پوچھی۔مولوی صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے کمرہ میں گئے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے مولوی محمد علی صاحب کو ایک مضمون لکھ کر بھیجا تھا کہ وہ بھی دستخط کر دیں۔اور الفضل اور پیغام صلح میں شائع کر دیا جائے۔مضمون یہ تھا کہ یہ افواہ جھوٹی ہے کہ بعض کے نزدیک۔فلاں خلیفہ ہوگا۔جس کے یہ معنی ہیں کہ ہم نعوذ باللہ خلیفہ وقت کی موت چاہتے ہیں۔مکرم مولوی فضل الدین صاحب وکیل نے آکر بتایا کہ مولوی محمد علی صاحب کہتے ہیں کہ یہ اختلاف قادیان ہی میں ہے اس طرح یہ خبر باہر بھی پہنچے گی ہم دونوں عصر کے بعد یہاں تقریر کر دیں تو کافی ہے۔یہ سن کر مولانا بقا پوری صاحب نے حضرت چوہدری نصر اللہ خانصاحب کی گفتگو کا ذکر کیا۔اس پر حضرت صاحبزادہ صاحب نے اس حوالہ سے دوبارہ مولوی فضل الدین صاحب کے ذریعہ مولوی محمد علی صاحب کو کہلا بھیجا لیکن مولوی محمد علی صاحب نے اخباروں میں شائع کرانا نہ مانا۔جمعہ کے دن حضرت خلیفہ اول کا وصال ہو گیا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے عصر کے بعد مختصر تقریر میں بتلایا کہ یہ دن ابتلاء کا ہے۔احباب رات بھر اور صبح روزہ رکھ کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ خلافت کے لئے اس شخص کو چنے جو سلسلہ کے لئے مفید ہو۔اور اس کی رضا کی راہ پر چلنے والا ہو۔اس کی تصدیق انصار اللہ کے قابل قدر تاریخی ٹریکٹ اظہار حقیقت مطبوعہ ۱۶/۱۳/ ۲۸ سے ہوتی ہے اس میں چالیس انصار اللہ کے اسماء درج ہیں اور بیسویں نمبر پرمحمد ابراہیم علاقہ سرگودھا مرقوم ہے۔