اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 191 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 191

191 ڈال کر وہاں احباب لے گئے۔اب اس وقت کافی لوگ وہاں جمع ہو چکے تھے۔بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر خلافت ثانیہ سے وابستگی :۔آپ بیان کرتے ہیں کہ میں حلفا سنا تا ہوں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں رورہا ہوں اور حضرت خلیفہ اول کے پاس بیٹھا ہوں اور ان سے کہتا ہوں کہ حضور تو جار ہے ہیں تو ہمیں کس کے سپر د کر کے جارہے ہیں۔مسجد مبارک میں گویا ظہر کے وقت نمازی جمع ہیں اور بہت سے ابھی بھی آ رہے ہیں۔اتنے میں حضرت صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب تشریف لے آئے۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ میاں اس محراب میں کھڑے ہو جاؤ۔“ جب حضرت میاں صاحب کھڑے ہو گئے تو آپ نے اپنا ایک ہاتھ میرے سر پر رکھ کر اور ایک ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر منہ ادھر گھما کر فرمایا کہ یہ ہے جس کے سپر د کر چلا ہوں۔میرے بعد یہ تمہارا خلیفہ ہوگا۔اور آپ نے یہ الفاظ دودفعہ دہرائے۔اگلے روز خواب میں دیکھا کہ ایک سڑک پر دومنہ والے سولہ سانپ کھڑے پھنکارتے ہیں۔منظر نہایت ہیبت ناک ہے لوگ خوف کے مارے کھڑے ہیں۔اور راستہ صاف ہونے کے منتظر ہیں میں بھی سڑک پار کرنا چاہتا ہوں مگر سانپوں کی وجہ سے نہیں کر سکتا۔اتنے میں ایک شخص آیا میرے پوچھنے پر بتایا کہ میں فرشتہ ہوں میرا نام رحمت علی ہے اور میں تمہارے لئے ایک حربہ لایا ہوں۔اس نے گھاس کھود نے والا نمبہ مجھے دیا اور اس کے چلانے کا طریقہ مجھے بتا کر کہا کہ اسطرح چلاؤ کہ یہ سانپ کٹ جائیں۔چنانچہ میں نے اس تیزی سے چلایا کہ ان کے نچلے منہ کٹ گئے اور وہ کھنڈرات میں گر گئے اور میں نے زور زور سے پکارا کہ لوگو! آجاؤ کہ راستہ صاف ہے۔اور لوگ گزرنے لگے۔بقیہ حاشیہ :۔اگلے روز حضرت خلیفہ اول انتقال فرما گئے۔اور ہفتہ کے روز مسجد نور کے قریب بڑ کے درخت کے نیچے خاکسار کے استفسار پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب دام عزہ نے رقم فرمایا:۔اس زمانہ میں اس گلی میں اور اس کے قریب کھنگر پڑے ہوئے تھے۔“ اور حضرت عرفانی صاحب نے تحریر فرمایا:۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ وہ گلی جو اسکول کو جاتی یا اسکول سے الحکم سٹریٹ میں آتی ہے اس گلی سے آئے تھے اور شیخ رحمت اللہ کے گھر کے قریب گرے تھے۔(52) حضرت عرفانی صاحب نے اس کتاب کا سارا مسودہ از راہ کرم ملاحظہ فرمایا تھا صفحہ ۳۲۶ پر نقشہ بھی دیا گیا ہے۔مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب کے بیان سے مکرم سید عبدالرحمن