اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 128 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 128

128 کتنا ہی اصرار سے عرض کرتا کہ یہ خلاف ادب ہے آپ ہر رنگ میں آرام کے زیادہ مستحق ہیں۔پھر بھی آپ نہ مانتے۔میرے معاملہ میں تو اکثر میرے موٹا پن اور عادات کی مستی پر رحم فرما کر مجھے سوار کرا دیتے کبھی اگر میں بہت اصرار کر کے اتنی سی بات منوانے میں کامیاب ہو بھی جاتا کہ مرحوم کو سوار ہونے پر مجبور کرلوں تو جب گاؤں نزدیک آتا تو اتر پڑتے اور مجبور کر کے مجھے سوار کرا لیتے۔جہاں قیام فرماتے جو اونچی اور اچھی چار پائی اور اچھا بستر ہوتا وہ دوسرے کو دیتے۔اگر دوسرا نہ مانے تو الآمُرُ فَوقَ الأَدَبُ فرما کر بھی اپنی بات منوا لیتے۔ایک دفعہ اس عاجز نے خواب میں دیکھا کہ یہ عاجز حضرت مسیح موعود کے پاؤں دبا رہا ہے۔بعض مجبوریوں کی بنا پر عاجز قادیان نہیں جا سکتا تھا۔اس لئے خیال آیا کہ کریام جاؤں اور حضرت حاجی صاحب جو حضور علیہ السلام کے صحابی ہیں، کے پاؤں دبا کر خواب پورا کروں۔چنانچہ یہ عاجز کریام گیا۔سردیوں کا موسم تھا خاکسار نے مسجد میں ہی بستر بچھوالیا۔عشاء کے بعد حضرت حاجی صاحب مرحوم اور یہ عاجزا کیلے رہ گئے تو عاجز نے اپنا خواب سنا کر پاؤں دابنے کی درخواست کی۔حضرت حاجی صاحب نے سختی کے ساتھ میری درخواست رد کر دی۔میں نے پھر اصرار کیا تو پاؤں آگے کر دیا۔اور کوئی ایک دو منٹ کے بعد کھینچ لیا۔اور فرمایا اب تم پاؤں آگے کر وایسا نہ ہو کہ میر انفس موٹا ہو جائے کہ کسی نے میرے پاؤں دبائے ہیں۔لباس و خوراک: لباس نہایت سادہ رکھتے۔غذا بہت کم کھاتے اور ہمیشہ فرماتے ” خوردن برائے زیستن و ذکر کردن است دیانتداری اور راست بازی:۔حضرت حاجی صاحب کی دیانتداری اور راستبازی پر دوست دشمن سب کو یقین تھا۔ایک شخص نے پچاس گھماؤں اراضی حاجی صاحب کے نام بغیر اطلاع دیئے کرادی۔یہ عدالتیں آپ کو ثالث بنا تیں۔اور کبھی کسی فریق کو ان کے فیصلے پر اعتراض نہ ہوتا تھا۔آپ اکثر صلح کروانے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔حج اور حضرت خلیفہ اسیح اوّل:۔غالباً 1911ء میں آپ نے بیت اللہ شریف کا حج کیا۔واپس آئے تو نبض المسیح، حضرت علامہ نور الدین صدیق خلیفہ مسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھ کر ملے اور معانقہ فرمایا۔حضرت حاجی صاحب فرماتے تھے کہ حضرت خلیفہ اسی اول رضی اللہ عنہ نے کئی مرتبہ اپنے قلم سے خطوں میں آپ کے صاحبزادہ محترم چوہدری احمد دین خانصاحب بتاتے ہیں کہ یہ صاحب رام لال بروت ساکن را ہوں تھے۔