اصحاب احمد (جلد 10) — Page 73
73 بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد ه فصلی علی رسولہ الکریم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ:- مجھ کو یہ بات سن کر بہت رنج ہوا اور دل کو سخت صدمہ پہنچا کہ تم اپنی والدہ مسماۃ نکی کی کچھ خدمت نہیں کرتے اور سختی سے پیش آتے ہو اور دھکے بھی دیتے ہو تمہیں یادر ہے کہ یہ طریق اسلام کا نہیں۔خدا اور اس کے رسول کے بعد والدہ کا وہ حق ہے جو اس کے برابر کوئی حق نہیں۔خدا کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ جو والدہ کو بدزبانی سے پیش آتا ہے اور اس کی خدمت نہیں کرتا اور نہ اطاعت کرتا ہے وہ قطعی دوزخی ہے۔پس تم خدا سے ڈروموت کا اعتبار نہیں ہے ایسا نہ ہو کہ بے ایمان ہو کر مرو۔حدیثوں میں آتا ہے کہ بہشت ماں باپ کے قدموں کے نیچے ہے۔اور ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص کی والدہ کو رات کے وقت پیاس لگی تھی اس کا بیٹا اس کے لئے پانی لے کر آیا اور وہ سوگئی بیٹے نے مناسب نہ سمجھا کہ اپنی والدہ کو جگا دے۔تمام رات پانی لے کر اس کے پاس کھڑا رہا کہ ایسا نہ ہو کہ وہ کسی وقت جاگے اور پانی مانگے اور اس کو تکلیف ہو۔خدا نے اس خدمت کے لئے اس کو بخش دیا۔سو سمجھ جاؤ کہ یہ طریق تمہارا اچھا نہیں ہے۔اور انجام کارا ایک عذاب میں گرفتار ہو جاؤ گے۔اور اپنی عورت کو بھی کہو کہ تمہاری والدہ کی خدمت کرے اور بد زبانی نہ کرے۔اور اگر باز نہ آوے تو اس کو طلاق دے دو اگر تم میری ان نصیحتوں پر عمل نہ کرو۔تو میں خوف کرتا ہوں کہ عنقریب تمہاری موت کی خبر سنوں تم نہیں دیکھتے کہ خدا تعالیٰ کا قہر زمین پر نازل ہے اور طاعون دنیا کو کھائے جاتی ہے ایسا نہ ہو کہ اپنی بدعملی کی وجہ سے طاعون کا شکار ہو جاؤ اور اگر تم اپنے مال سے اپنی والدہ کی خدمت کرو گے تو خدا تمہیں برکت دے گا۔یہ وہی والدہ ہے کہ جس نے دعاؤں کے ساتھ تمہیں ایک مصیبت کے ساتھ پالا تھا۔اور ساری دنیا سے زیادہ تم سے محبت کی پس خدا اس گناہ سے درگذر نہیں کرے گا جلد تو بہ کرو۔جلد تو بہ کرو۔ورنہ عذاب نزدیک ہے اس دن پچھتاؤ گے دنیا بھی جائے گی اور ایمان بھی۔میں نے باوجود سخت کم فرصتی کے یہ خط لکھا ہے خدا تمہیں اس لعنت سے بچاوے جو نافرمانوں پر پڑتی ہے اگر تمہاری والدہ بد زبان ہے اور خواہ کتنا ہی بدخلقی کرتی ہے خواہ کیسا ہی تمہارے نزدیک بری ہے وہ سب باتیں اس کو معاف ہیں۔کیونکہ اس کے حق ان تمام باتوں سے بڑھ کر ہیں تمہاری خوش قسمتی ہوگی کہ میری اس تحریر کو پڑھ کرتو بہ کرو۔اور سخت بدقسمتی ہوگی کہ میری اس تحریر سے فائدہ نہ اٹھاؤ والسلام على من اتبع الهدى۔خاکسار مرزا غلام احمد مسیح موعود ۱۲ فروری ۱۹۰۷ء