اصحاب احمد (جلد 10) — Page 61
61 کو ضرور کسی نہ کسی طرح ہمارے عندیہ سے آگا ہی ہوگئی ہے انہوں نے مجھ سے کلام نہیں کی۔اور سید ھے اندر چلے گئے۔تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ انہوں نے میرے لڑکے کو اٹھایا ہوا ہے اور میری بیوی کو ساتھ لے کر جا رہے ہیں۔میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہاں چلی ہو۔اس نے کہا کہ میں مسلمان نہیں ہوسکتی جس دھرم میں میرے والد صاحب رہیں گے اسی میں میں رہوں گی میں اپنے والدین کو نہیں چھوڑ سکتی یہ کہہ کر وہ چلی گئی مجھ کو اس کی اس حرکت سے بہت صدمہ ہوا۔دل میں کہا اے عورت میں تیری خاطر رکا ہوا تھا جب تو نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا تو اب مزید توقف کی ضرورت نہیں۔میں نے اسی وقت تین چار قلمی اشتہار لکھے ان میں لکھا کہ میں اپنی خوشی سے اسلام قبول کرتا ہوں آج سے کوئی شخص مجھے ہندو نہ سمجھے لیٹی بنائی اور رات کو گیارہ بارہ بجے کے قریب جبکہ کاروبار بند ہو جاتے ہیں اور بازاروں میں آمد و رفت نہیں رہتی شہر کی مختلف جگہوں پر جا کر اشتہاروں کو چسپاں کر آیا۔صبح ہوئی تو یہ خبر شہر میں آنا فانا پھیل گئی کہ کشن لعل داروغہ مسلمان ہو گیا ہے۔ہندو مجھ کو تو کچھ کہہ نہ سکے کیونکہ ان دنوں داروغہ چونگی کو بہت کچھ اختیارات ہوتے تھے وہ چاہتا تو تاجروں کو کافی تنگ کر سکتا تھا۔ان دنوں قانون ایسے تھے کہ باوجود چونگی میں محصول ادا کر دینے کے دوکاندار مال کو اس وقت تک کھول نہیں سکتے تھے جب تک داروغہ چونگی خود یا اس کا کوئی نمائندہ آکر تصدیق نہ کر دیتا تھا کہ مال کے مطابق محصول ادا کیا گیا ہے اور اگر کوئی دکاندار داروغہ کی تصدیق سے قبل مال کھول دیتا تھا تو وہ مستوجب سزا اور جرمانہ ہوتا تھا۔اور داروغہ چونگی کو یہ اختیار ہوتا تھا کہ اگر کوئی شخص بغیر محصول چونگی ادا کئے شہر میں داخل ہو جائے تو وہ چہار چند تک محصول چونگی وصول کرلے۔ہمارے قصبہ میں اکثر ہندو تاجر پیشہ تھے اس لئے ان کو مجھ سے کچھ دبنا پڑتا تھا۔براہ راست تو وہ مجھے کو تکلیف نہیں پہنچا سکتے تھے لیکن میری والدہ صاحبہ اور دوسرے رشتہ داروں کو اسی طرح بعض غریب احمدیوں کو انہوں نے تنگ کرنا شروع کر دیا ہماری برادری نے فوراً میری والدہ صاحبہ اور میرے بھائی صاحب کا بائیکاٹ کر دیا کیونکر میرے خسر نے برادری کی پنچایت میں میری والدہ صاحبہ پر یہ الزام لگایا کہ ان کے ایماء اور مدد سے کشن لعل میری لڑکی کو مسلمان کرنے لگا تھا۔اگر میری والدہ مخالفت کرتیں اور کشن لعل کو علیحدہ نہ ہونے دیتیں تو وہ مسلمان نہیں ہو سکتا تھا۔غرض ایک عرصہ تک ہماری برادری نے والدہ صاحبہ اور ہمارے خاندان کا بائیکاٹ رکھا۔آخر بعض لوگوں کی سفارش سے بڑی مشکل سے ہمارے خاندان کو معافی ملی اور اس شرط پر ان کو برادری میں داخل