اصحاب احمد (جلد 10) — Page 59
59 ایام تھے۔دن اسی طرح گزر رہے تھے چھپ کر نمازیں پڑھتا تھا۔اعلانیہ اسلام کا اظہار نہ کیا تھا۔دل میں سخت کڑھتا تھا لیکن کچھ کر نہ سکتا تھا۔اللہ تعالیٰ کو مجھے اس حالت میں رکھنا منظور نہ تھا۔ایک دن شام کو جب میں دفتر سے گھر آنے لگا تو راستہ میں میری حالت سخت خراب ہوگئی اور مجھ میں چلنے کی سکت باقی نہ رہی۔بڑی مشکل سے گھر آیا اور چار پائی پر آکر گر گیا۔میری والدہ سخت گھبراگئیں بھائی کو بلایا انہوں نے نبض دیکھی اور فکر مند ہوئے۔ڈاکٹر کو بلانے چلے گئے۔میں نے بھی اپنی نبض دیکھنے کی کوشش کی مگر گھبراہٹ میں مجھے نبض نہ ملی اس وقت مجھ کو خیال آیا کہ میں دل سے مسلمان ہوں۔لیکن میں نے اپنے اسلام کا اعلانیہ اظہار نہیں کیا۔اگر مر گیا تو ہند و مجھ کو جلا دیں گے اور میری لاش مسلمانوں کو نہ دیں گے۔خدا تعالیٰ کے حضور جا کر اس کوتاہی پر مجھ سے باز پرس ہوگی۔اس خیال سے میری طبیعت میں سخت بے چینی پیدا ہوئی۔میرے دل میں تحریک ہوئی کہ میں اپنے مولیٰ کے حضور دعا کروں کہ مجھے اتنی مہلت مل جائے کہ میں اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر دوں۔اسلامی مسائل سے مجھ کو زیادہ واقفیت نہ تھی میں سمجھتا تھا کہ دعا صرف نماز میں ہی ہو سکتی ہے۔اور چونکہ میں نے کبھی کسی کو چار پائی پر نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا اس لئے میں اس وقت یہ خیال کرتا تھا کہ چار پائی پر نماز نہیں ہوسکتی اتنی مجھ میں سکت نہ تھی کہ اُٹھ سکتا بڑی مشکل سے میں نے اپنے آپ کو چار پائی سے نیچے گرایا اور زمین پر لیٹ کر نماز پڑھنی شروع کر دی کہ الہی اگر میری موت ہی مقدر ہے تو مجھ کو اتنی مہلت دے کہ میں اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر دوں۔نماز میں ہی میری حالت سنبھلنے لگی۔بھائی صاحب ڈاکٹر صاحب کو لینے گئے ہوئے تھے۔ڈاکٹر صاحب کے آنے میں کچھ دیر ہوگئی۔جب میں نماز سے فارغ ہوا تو میرے بھائی صاحب ڈاکٹر با بوتانی رام کو ہمراہ لے کر آئے تانی رام با قاعدہ ڈاکٹر نہ تھے ایک قسم کے کمپاؤنڈر تھے لیکن قصبہ میں مشہور اور شہرت یافتہ تھے اور ہمارے قصبہ میں پریکٹس کرتے تھے۔انہوں نے ملاحظہ کر کے بتلایا کہ اس کو بند ہیضہ ہو گیا ہے واللہ اعلم کیا مرض تھا۔اور تسلی دی کہ اب فکر کرنے کی بات نہیں ہے حالت اچھی ہو رہی ہے۔غرض وہ تو یہ کہہ کر چلے گئے ادھر خدا تعالیٰ نے مجھ پر فضل کیا کہ لحظہ بہ لحظہ روبصحت ہونے لگا۔دو چار روز میں کمزوری جاتی رہی اور میں بالکل تندرست ہو گیا۔دراصل میرے مولیٰ کریم کو پسند نہ تھا کہ میں اسلام کو دل سے قبول کر کے پھر اپنی فطری کمزوری کی وجہ سے چھپارہتا۔اس نے اس موقع پر میری دستگیری فرمائی۔اور ایک ٹھوکر لگا کر میری آنکھیں کھول دیں۔اور مجھ کو مجبور کیا کہ میں اعلانیہ مسلمان بنوں۔۔تندرست ہو کر میں سوچ میں پڑ گیا کہ میں کیونکر اسلام کا اعلان کروں۔غیر مسلم ریاست تھی۔ان دنوں وہاں