اصحاب احمد (جلد 10) — Page 57
57 دور نکل گیا۔ایک جگہ جو ہر تھا۔وہاں میں نے وضو کیا اور نماز نیت دی اتنے میں گاڑی آگئی میں شش و پنچ میں پڑ گیا کہ کیا کروں۔گاڑی تھوڑی دیر ٹھہرتی تھی نماز ہلکی پڑھتے بھی دل ڈرتا تھا کہ شاید گناہ کی بات نہ ہو۔اور تو ڑ بھی نہیں سکتا تھا میرے پاس جس قدر نقدی تھی وہ اسباب کے ساتھ تھی۔اس لئے فکر لاحق تھا کہ اگر گاڑی چھوٹ گئی اور میرے ساتھی اس میں سوار ہو کر ہر دوار چلے گئے تو اس موقع پر جبکہ ہزاروں آدمی یا تر ا کے لئے وہاں آئے ہوئے ہیں ان کو کس طرح ڈھونڈونگا نماز ختم کر کے میں اسٹیشن پر پہنچا تو گاڑی چل پڑی میں نے دوڑ کر چڑھنے کی کوشش کی۔خدا کی قدرت ! جس دروازہ کو میں لپک کر پکڑتا وہ نہ کھلتا یکے بعد دیگرے گاڑی کے پانچ چھ ڈبے گذر گئے مگر مجھے کامیابی نہ ہوئی اچانک ایک دروازہ پر جو میں نے ہاتھ ڈالا تو کھل گیا جو نہی میں اندر گیا ایک کونے سے آوازیں اُٹھیں۔وہ آ گیا کشن لعل وہ آگیا ادھر آؤ ہم تمہارا انتظار کرتے تھے“ دیکھا تو میرے ہمسفر تھے جن کے پاس میرا اسباب تھا میں نے خدا کا شکر کیا اگر میں رہ جاتا تو ان کا تلاش کرنا مشکل ہو جاتا اور مجھ کوسفر میں خرچ نہ ہونے کی وجہ سے تکلیف اٹھانی پڑتی۔یہ بات اگر چہ بظاہر معمولی معلوم ہوتی ہے مگر اس وقت خدا تعالیٰ کی اس تائید کا میرے دل پر بڑا اثر ہوا۔ہر دوار کے مختصر حالات ہردوار میں جو برہمن ہیں وہ تیرتھ پر وہت کہلاتے ہیں۔یہ پر وہتی ان کو کسی لیاقت کی بناء پر نہیں ملتی بلکہ موروثی ہوتی ہے نسلاً بعد نسل یہ لوگ گرو بنتے چلے آتے ہیں اور جمان یعنی مرید بھی ان کے موروثی ہوتے ہیں۔ہندووں میں چار درن ہیں برہمن، کھشتری، ولیش اور شودر۔آخری ورن یعنی شودروں کو چھوڑ کر باقی تین ورن یاترا کیلئے ہر دوار جا سکتے ہیں ان تینوں ورنوں میں پھر آگے کئی گوتیں ہیں ہر ایک گوت کے علیحدہ علیحدہ پر وہت ہوتے ہیں۔جس طرح موروثی ترکہ تقسیم ہوتا ہے اسی طرح پر وہت کے خاندان کے کل افراد میں نسلاً بعد نسل پر وہتی علاقہ وار تقسیم ہوتی چلی جاتی ہے گویا ان میں سے ہر شخص علیحدہ علیحدہ اپنے اپنے علاقہ کے مخصوص گوت والے ہندووں کا پروہت بن جاتا ہے۔جب میں ہر دور پہنچا تو سٹیشن پر میں نے دیکھا کہ بے شمار پروہت اور ان کے ایجنٹ ہاتھوں میں بڑی بڑی بہیاں اٹھائے ادھر ادھر گھومتے پھرتے ہیں اور ہر ایک سے پوچھتے ہیں کہ کون گوت مہاراج ؟ کون گوت مہاراج؟ اور ان میں سے اپنے عجمانوں کو ڈھونڈ نکالتے ہیں میرے پروہت نے بھی جلد ہی مجھ کو ڈھونڈ لیا۔اور اپنے ہمراہ اپنی حویلی میں لے آیا۔یہ صاحب ضلع لدھیانہ۔انبالہ اور ریاست پٹیالہ وغیرہ کے سارسوت گوت والے برہمنوں کے پروہت تھے اس جگہ پہنچ کر میں نے حسب توفیق گرومہاراج کی