اصحاب احمد (جلد 10) — Page 52
52 میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے جمعہ پڑھایا تھا اور مسجد اقصیٰ میں حضرت مولوی نورالدین صاحب نے۔ہم نے جمعہ مسجد مبارک میں پڑھا۔میں کھڑکی کے پاس بیٹھا تھا مجھ کو بتایا گیا تھا کہ یہاں سے حضرت اقدس تشریف لائیں گے مسجد چھوٹی سی تھی ایک صف میں بمشکل چھ یا سات آدمی سما سکتے تھے جب کھڑکی کے راستہ سے حضرت اقدس تشریف لائے میں نے حضور سے مصافحہ کیا اور کپڑوں کو چھوا۔کپڑوں سے مجھے خوشبو آتی تھی۔غالبا حضور نے عطر لگایا ہوا تھا۔حضور کی زیارت سے میرے قلب پر خاص اثر پڑا آپ کو دیکھ کر میں بے تاب ہو گیا۔اور اسلام کی طرف میری کشش زیادہ ہوگئی۔خدا کے فضل نے مجھے صحابی بنا دیا :۔جب میں گھر سے چلا تھا تو میری نیت اسلام قبول کرنے کی نہ تھی صرف حضور کی زیارت مقصود تھی اس شوق میں میں نے یہ سفر اختیار کیا تھا۔قادیان میں آکر منشی صاحب نے مجھ کو اسلام قبول کرنے کی تحریک نہیں کی بلکہ ان کا مشورہ یہی تھا کہ میں ابھی بیعت نہ کروں۔غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ ابھی نو عمر تھا۔اور بعض احباب کا خیال تھا کہ اگر یہ بات نکل گئی کہ حضور نے ایک نو عمر لڑکے کو مسلمان بنالیا ہے تو ہندو کوئی فتنہ کھڑا کر دیں گے۔اور حضور کو تکلیف ہوگی لیکن حضور کو دیکھ کر مجھ سے نہ رہا گیا۔مغرب کی نماز کے بعد جب بیعت ہونے لگی تو اللہ تعالیٰ نے مجھ کو توفیق دے دی۔اور میں خود بخود بیعت کے لئے آگے بڑھ آیا۔اس وقت قریباً آٹھ آدمیوں نے بیعت کی میری اس جرات کو دیکھ کرمنشی عبدالوہاب صاحب بہت خوش ہوئے اور مجھ کو سینے سے لگا لیا مگر اس وقت انہوں نے فتنہ کے خیال سے مجھ کو یہ ظاہر کرنے نہ دیا کہ میں ہندوؤں سے مسلمان ہوا ہوں۔اس وقت بیعت کے بعد نام لکھے جاتے تھے میں نے اپنا نام رحیم بخش لکھوایا۔بعد میں حضرت خلیفتہ اسیح اول کے زمانہ میں رحیم بخش کی بجائے عبدالرحیم نام رکھا گیا۔سات روز ہم قادیان میں رہے۔اکثر نمازیں ہم مسجد مبارک میں پڑھا کرتے تھے۔مغرب کی نماز کے بعد حضور شاہ نشین پر رونق افروز ہوتے اور کسی مقدمہ کے متعلق گفتگو ہوتی۔غالباً کرم دین والا مقدمہ تھا سات روز ٹھہر کر ہم واپس وطن آگئے۔آتی دفعہ میں نے حضرت صاحب کی چند کتب خریدیں سرمہ چشم آریہ۔جنگ مقدس۔رپورٹ جلسہ مہوتسو ( مذاہب عالم ) وغیرہ جن کا مطالعہ بعد میں میرے لئے بہت مفید ثابت ہوا۔حضرت اقدس کی خدمت میں خط : وطن واپس آکر میں نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں لکھا کہ میں ہندو تھا اور حضور کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہوں لیکن ابھی تک اعلانیہ اپنے اسلام کا اظہار نہیں کرسکا۔ڈرتا ہوں کہ