اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 51 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 51

51 ریاست کا باشندہ ہونے کی وجہ سے حق کے قبول کرنے کی راہ میں اور بھی بہت سی رکاوٹیں تھیں کیونکر مسلمان ہو گیا۔اور نہ صرف مسلمان ہوا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ہاتھ پر اسلام لانے کی سعادت ملی تو میری روح سجدہ میں گر جاتی ہے۔میری ہمت ایسی نہ تھی کہ حق کھل جانے کے بعد میں ان تمام رکاوٹوں کا مقابلہ کر سکتا جو میرے راستہ میں حائل تھیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا سراسر فضل تھا کہ اس نے میری رہنمائی فرمائی اور بغیر میری کسی خاص کوشش کے مجھ کو کشاں کشاں اس منبع نور و ہدایت کے آستانہ پر لا ڈالا اور میرے دل میں حق کو قبول کرنے کے لئے ایک غیبی تحریک اور غیر معمولی جوش پیدا کر دیا کہ میں یکدم تمام مخالفتوں اور رکاوٹوں سے بے نیاز ہوکر اسلام لانے کے لئے تیار ہو گیا۔حضرت کرشن ثانی کے درشن :۔میں پہلے بتا چکا ہوں کہ منشی عبدالوہاب صاحب اکثر مجھ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر کیا کرتے تھے ان کے پاس اخبار الحکم اور بدر آیا کرتے تھے۔ان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حالات اور الہام درج ہوتے۔وہ اکثر میں پڑھا کرتا تھا۔منشی عبدالوہاب صاحب قادیان آنے لگے تو انہوں نے مجھ سے بھی ذکر کیا۔میرے دل میں پہلے ہی حضرت مسیح موعود کی زیارت کا شوق پیدا ہو چکا تھا۔میں بھی ان کے ساتھ قادیان آنے کے لئے تیار ہو گیا۔چنانچہ میں نے چند روز کی رخصت لی اور ہم حضور کی زیارت کے لئے چل پڑے یہ غالباً ماہ جون یا جولائی ۱۹۰۴ء کا ذکر ہے جمعہ کے روز قریباً گیارہ بجے ہم قادیان پہنچے اور سید ھے مسجد مبارک میں گئے۔وہاں چند آدمی بیٹھے تھے ان میں ایک نہایت وجیہہ بزرگ تھے۔منشی صاحب نے ان سے مصافحہ کیا میں نے بھی سلام کیا۔میں نے خیال کیا کہ غالباً یہی وہ حضرت مسیح موعود ہیں جن کا منشی صاحب ذکر کیا کرتے تھے۔انہوں نے دریافت کیا کہ آپ کھانا کھا آئے ہیں ہم نے کہا نہیں ، ابھی آئے ہیں۔انہوں نے فرمایا کہ کھانا کھا آؤ اور جمعہ کے لئے تیاری کرو۔بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ یہ بزرگ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ہیں کھانا کھانے کے بعد نہانے کے لئے ہم مسجد اقصیٰ چلے گئے اس وقت میرے کانوں میں سونے کی بالیاں تھیں۔ماسٹر عبدالرحمن صاحب نو مسلم سابق مہر سنگھ اور پیر محمد یوسف صاحب وہاں موجود تھے انہوں نے اعتراض کیا کہ مردکو تو سونا پہننا روا نہیں۔تم نے سونا کانوں میں کیوں ڈالا ہوا ہے میں حیران تھا کہ کیا جواب دوں کہ منشی صاحب آگئے انہوں نے الگ لے جا کر ان کو سمجھایا غالبا یہ کہا ہوگا کہ یہ ہندو ہے اور اسلام کی طرف راغب ہے وہ مطمئن ہو گئے غسل کر کے ہم مسجد مبارک میں آئے ان دنوں دو جگہ جمعہ ہوتا تھا۔مسجد مبارک