اصحاب احمد (جلد 10) — Page 50
50 نمازوں میں تقریباً تین چار گھنٹے صرف ہو جاتے تھے گرمیوں کے دن تھے میں پسینہ سے شرابور ہوجاتا تھا۔تین چار ماہ مجھے ایسی ہی غلطی لگی رہی۔غرض ایک عرصہ تک میں اپنے مقصد کے لئے اسی طرح دعائیں کرتا رہا۔اللہ تعالیٰ نے میری دعائیں سن لیں :۔آخر میرے رب نے میری سنی اور اپنے اس وعدہ کے مطابق که وَالَّذِينَ جَاهَدُ وَافِيْنَا لَنَهْدِ يَنَّهُمْ سُبُلَنَا - ( 16 ) میری دستگیری فرمائی اور اس صفائی سے میرے مقاصد پورے کئے کہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا تھا۔کہ کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے۔میری ہمشیرہ کی شادی کے لئے ایسا سامان ہوا کہ میری والدہ کو غالباً بھولا ہوا تھا۔یا انہیں علم ہی نہ تھا۔مکان کے ایک حصہ سے دبا ہوا رو پیل گیا یعنی برآمدہ میں چولہے کے پاس ایک پردہ کی دیوار بنی ہوئی تھی۔وہ بارش کی شدت میں گر گئی اس دیوار میں سے دفن کیا ہوا کافی رو پسیل گیا روپیہ بہت کافی تھا۔ہمشیرہ کی شادی نہایت ٹھاٹھ سے ہوئی۔ہمشیرہ کے سسرال کی حیثیت کے مطابق جہیز مہیا کیا گیا۔سب رسم و رواج پورے کئے گئے حتی کہ میرے بھائی نے میری منشاء کے خلاف طوائفوں کا مجرا بھی کروا دیا۔ترقی کا معاملہ ایسے ہوا کہ میں ایک چپڑاسی کی حیثیت سے ملازم ہوا تھا پھر مر چونگی ہوا۔ہمارے شہر کے چونگی خانہ میں کئی محرر تھے۔ان میں سے ایک منشی عبدالوہاب صاحب خود بھی تھے۔اور کچھ چپڑاسی تھے یہ سب مجھ سے سینئر تھے لیکن جب چونگی خانہ کا داروغہ ترقی پا کر چیف کورٹ کے اہلمد حمید کی جگہ چلا گیا۔اور داروغہ کی جگہ خالی ہوئی تو جاتے ہوئے وہ میری پر زور سفارش کر گیا کہ میرے بعد کشن لعل داروغہ کا کام بخوبی سنبھال سکتا ہے۔چنا نچہ محکمہ مال سے منظوری آگئی۔اور مجھ کو یک لخت داروغہ بنا دیا گیا۔(ان دنوں سپریٹنڈنٹ چونگی کو ریاست پٹیالہ میں داروغہ کہا کرتے تھے ) پھر تیسرا مقصد بھی اس حیرت انگیز طریق پر پورا ہوا کہ اب جب میں حالات پر غور کرتا ہوں کہ میرے جیسا کمزور انسان کہ جو مذہب اور برادری کے بندھنوں میں جکڑا ہوا تھا اور پھر جس کے سامنے ایک غیر مسلم پنجاب کے ان حصوں میں جو سر کار انگریزی کے ماتحت تھے چونگی خانہ کے ملازم میونسپلٹی کے ماتحت ہوتے تھے مگر ہماری ریاست میں ان دنوں چونگی خانہ کا محکمہ حکومت کے محکمہ مال کے ماتحت ہوتا تھا۔دوسرے محکموں کے ملازم چونگی خانہ میں تبدیل ہو کر آجاتے تھے اور چونگی خانہ کے اہلکار ترقی پاکر دوسرے محکموں میں چلے جاتے تھے۔چونگی کے ملازموں کی ملازمت پینشن والی سجھی جاتی تھی۔(عبدالرحیم شرما)