اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 49 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 49

49 کہ جس میں میں نے تربیت پائی تھی بہت ہی کم تھی اس لئے میرا دل چپڑاسی کی ملازمت پر تسلی نہ پا تا تھا۔اور اس وقت کے لحاظ سے امنگ پیدا ہوتی تھی کہ میں ترقی کروں۔تیسری بات یہ تھی کہ منشی عبدالوہاب صاحب کی تبلیغ اور صحبت کی وجہ سے ہندو مذہب کی لغویت اور اسلام کی صداقت مجھ پر کھل گئی تھی مگر ہندو ہونے کی وجہ سے اور گرد و پیش کے ماحول اور حالات کی وجہ سے میں اسلام کو قبول نہیں کر سکتا تھا۔میں ایک غیر مسلم ریاست کا باشندہ تھا۔شادی ہو چکی تھی۔پھر والدہ صاحبہ اور عزیز واقرباء کو چھوڑنا بھی مشکل تھا۔ان حالات کی وجہ سے اسلام کو برملا طور پر قبول کرنا میرے لئے بالکل محال تھا اور ادھر ایک صداقت کو دیدہ دانستہ چھوڑا بھی نہیں جا سکتا تھا۔دل میں سخت بے چینی تھی دعا کرتا تھا کہ الہی تو خود دستگیری فرما اور مجھے کچے مذہب کے قبول کرنے کی توفیق دے۔ہندو ہونے کی حالت میں نماز : یہ تین مقاصد تھے جو میرے پیش نظر تھے۔میں نے منشی عبدالوہاب صاحب سے کہا مجھے نماز سکھائیں۔میں آپ کے طریق پر اپنے بعض مقاصد کے لئے دعا کرنا چاہتا ہوں۔میں نے مقاصد تو ان کو نہیں بتائے تھے البتہ نماز ان سے سیکھنی شروع کر دی۔گومیری زبان پر عربی عبارت نہ چڑھتی تھی تاہم اچھی بری میں نے سیکھ ہی لی۔اور ترجمہ بھی سیکھا۔اور چھپ کر اپنے طور پر نماز پڑھنی شروع کر دی۔میرے گھر والوں دفتر کے ملازموں حتی کہ منشی عبدالوہاب صاحب کو بھی اس بات کا علم نہ تھا کہ میں نے نماز پڑھنی شروع کر دی ہے۔صرف فقیر محمد سپاہی کو جو میرے ساتھ چونگی پر کام کرتا تھا میں نے اپنا ہم راز بنایا ہوا تھا۔نماز کے لئے میں نے دو جگہیں مخصوص کر رکھی تھیں۔دن کی نماز میں اپنی چونگی کے ایک کمرہ میں جو کہ ذرا علیحدہ تھا اور لوگوں کی آمد ورفت وہاں نہ ہوتی تھی کواڑ بند کر کے پڑھتا تھا اور فقیر محمد کوتاکید کر رکھی تھی کہ اگر کوئی ہندو ادھر آئے تو مجھے اطلاع کر دینا۔فقیر محمد خود نماز نہ پڑھتا تھا۔مگر یہ دیکھ کر کہ ایک ہندو نماز پڑھتا ہے اسے شرم آئی اور وہ بھی نماز پڑھنے لگ گیا اور بعد میں احمدی بھی ہو گیا تھا۔رات کی نمازوں کے لئے میں نے گھر میں ایک جگہ مخصوص کر رکھی تھی ہمارا مکان پرانی وضع کا تھا سب کمروں کے پیچھے ایک اندھیری کوٹھڑی ہوتی تھی اس کے ایک کو نہ میں کواڑ بند کر کے میں نماز پڑھا کرتا تھا۔نمازوں کے متعلق کچھ عرصہ تک مجھے بڑی غلطی لگی رہی۔دورکعت کے بعد قعد و تک کو میں ایک رکعت سمجھتا تھا۔اس لحاظ سے چار رکعت کی بجائے میں آٹھ رکعت پڑھتا تھا۔گویا میری ہر نماز دگنی ہوتی تھی۔چونکہ زبان میں روانی نہ تھی۔ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا عشاء کی نماز میں مجھے گھنٹہ بھر لگ جاتا تھا۔پانچ