اصحاب احمد (جلد 10) — Page 33
33 صاحب کے ساتھ میرے تعلقات بڑے اچھے رہے میں ان کا معتمد خاص تھا اور مجھے بھی ان سے بڑی عقیدت تھی۔انجمن کے قواعد وضوابط میں جتنے اختیارات پریذیڈنٹ کے ہیں یہ سارے میرے تجویز کردہ ہیں اور میری ہی رپورٹوں پر انجمن نے منظور کئے ہیں۔مگر کچھ عرصہ بعد مولوی صاحب مجھ سے کچھ ناراض ہو گئے۔اس کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ مولوی صاحب کی اردو مترجم حمائل چھپ رہی تھی۔پریس والے وقت پر کام نہ کرتے تھے۔با وجود بار بار تاکید کے پروف وقت پر نہ دیتے۔مولوی صاحب پہاڑ پر گئے ہوئے تھے۔وہاں سے انہوں نے مجھے خط لکھا کہ تم کام نہیں کرتے۔تمہاری سستی کی وجہ سے جمائل جلدی نہیں چھپتی۔میں نے جواب لکھا کہ میں جس قدر کام کر سکتا ہوں آپ کے ارشاد کے بغیر ہی کرتا ہوں مگر مطبع والے وقت پر کام نہیں کرتے۔اس میں میراقصور نہیں۔اور آپ کا مجھے ملامت کرنا بے معنی ہے۔میں جتنا کام کر سکتا ہوں کر رہا ہوں آپ کی ملامت سے زیادہ کام نہیں بقیہ حاشیہ پھر مہتم تصنیفات اور ایک سال بعد ساتھ ہی مینجر اخبارات اور ایک سال بعد مہتمم کے علاوہ اسسٹنٹ محاسب۔تین سال بعد صرف مہتم۔آٹھ ماہ بعد جائنٹ سیکرٹری۔پھر آڈیٹر۔پھر اسٹنٹ محاسب پھر سپرنٹنڈنٹ دفاتر پھر ساتھ ہی آنریری آڈیٹر۔پھر صرف پریذیڈنٹ دفاتر۔پھر محر ر اول دفتر محاسب پھر قائم مقام نائب محاسب۔پھر ساتھ ہی سپرنٹنڈنٹ دفاتر۔پھر صرف نائب محاسب پھر ساتھ ہی سپر نٹنڈنٹ دفاتر پھر آڈیٹر محصل۔پھر آڈیٹر انچارج دفتر تحصیل مقرر ہوئے۔اور ابتداء میں نہیں روپے الاؤنس تھا اور بالآخر آپ ایک سو پنتالیس روپے مشاہرہ پانے لگے۔ریٹائر ہونے کے بعد دوبارہ آپ کو سٹاک کی پڑتال کا کام دیا گیا۔اور پھر سٹاک کیپر اور امین اور پھر صرف سٹاک کیپر کے طور پر کام دیا گیا۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جہاں ماسٹر صاحب کو ایک دفعہ حسن خدمات کے باعث بطور انعام ایک ماہ کی تنخواہ زائد دی گئی۔وہاں بحکم مولوی محمد علی صاحب ایک دفعہ آپ کی تنخواہ میں پانچ روپے کی کمی کی گئی۔اور ایک بار ۱۹۲۶ء میں یہ لکھا گیا:۔دو مہتمم تصنیفات کی سروس بک میں نوٹ کیا جائے۔کہ ان کا رویہ بہت قابل افسوس ہے اور وہ نظام دفتر کو خراب کر رہے ہیں۔اس نوٹ کی نقل ان کی ترقی کے سوال کے وقت پیش کی جائے مولوی محمد علی صاحب کے اس نوٹ سے ماسٹر صاحب کے بیان کی تصدیق ہوتی ہے کہ قرآن مجید کی طباعت کے تعلق میں مولوی صاحب ناراض ہو گئے تھے۔ہوسکتا۔جتنا میری طاقت میں ہے وہ تو میں کر ہی رہا ہوں۔اس پر مولوی صاحب نے مجھے لکھا کہ آئندہ میں حمائل