اصحاب احمد (جلد 10) — Page 31
31 ہوتے بچ گئی۔آخر سائیکل کی سواری چھوڑ دی۔کچھ عرصہ تو کبھی اچھرہ کے اڈے پر جا کر جواحد یہ بستی سے تقریباً ڈیڑھ میل دور ہے تانگہ پر سوار ہوتا کبھی لا ہو تک سارا راستہ جو تقریبا ساڑھے پانچ میل ہے پیدل آنا جانا پڑتا اس طرح چند ماہ گزارے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے تانگہ کا انتظام کر دیا اور کئی سال دفتر اپنے تانگہ پر آتا جاتا رہا۔میرے یہاں آجانے کے دو سال بعد ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کو خیال آیا کہ جب یہ شخص اکیلا احمدی بستی میں رہ سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں رہ سکتے۔چنانچہ وہ بھی اسی جگہ آگئے اور اب آہستہ آہستہ یہاں کی آبادی بڑھنے لگی۔چونکہ احمدی بہت کم آباد ہوتے تھے اور زیادہ حصہ غیر احمدیوں کا تھا۔اس جگہ کا نام احمد یہ بستی ان کو پسند نہ آیا۔آخر کئی ایک تجویزوں کے بعد اس کا نام مسلم ٹاؤن قرار پایا اور اب یہی مشہور ہو گیا۔جب میں احمد یہ بلڈنگس میں تھا تو وہاں انجمن کے ملازمین کی ایک کو آپریٹو کریڈٹ سوسائٹی میں نے قائم کی جس کا میں سیکرٹری تھا۔جب میں مسلم ٹاؤن آ گیا تو اس سوسائٹی کا سیکرٹری چوہدری فضل حق صاحب کو مقرر کر دیا۔اور مسلم ٹاؤن میں میں نے ایک اور کو آپریٹو کریڈٹ سوسائٹی جاری کی اور اس کا بھی میں سیکرٹری ہوا۔یہ سوسائٹی ۱۹۳۷ء میں قائم ہوئی جواب تک یعنی ۱۹۵۷ء تک قائم ہے۔اس کے علاوہ ایک اور اصلاح تمدن کے نام سے کو آپریٹو سوسائٹی قائم کی جس کی غرض مسلم ٹاؤن کے باشندوں کی سود، بہبود اور ان کی تمدنی تعلیمی وغیرہ اغراض کا اجراء اور تکمیل وغیرہ ہے۔یہ سوسائٹی بھی اب تک قائم ہے گوفنڈ ز کے کافی نہ ہونے کی وجہ سے یہ کما حقہ اپنے فرئض ادا نہیں کر رہی۔انجمن لاہور کی خدمات اور انجمن و مولوی محمد علی صاحب کی عنایات:۔مندرجہ صدر تحریر کا آخری حصہ میں نے انجمن اشاعت اسلام کی ملازمت سے ریٹائر ہونے پر مکمل کیا ہے۔اس کے بعد میں نے کوشش کی کہ جماعت لاہور کے ساتھ جتنا عرصہ میں رہا اس کے حالات بھی مختصر طور پر میں قلمبند کروں۔اس کے لئے میں نے سیکرٹری احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور سے اپنی سروس بک کی نقل مانگی مگر انہوں نے غالباً مندرجہ صدر تحریر سے مراد حالات کا وہ حصہ ہے جو شروع سے تا عنوان ” خلافت ثانیہ میں لاہور چلے جانا خاکسار نے درج کیا ہے۔اس عنوان کے معابعد مندرجہ متن بالا والا مضمون تھا جسے میں نے ترتیب میں اپنی جگہ سے تبدیل کر دیا ہے(مولف)