اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 30 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 30

30 بھی ہو سکے گی یہ ساری زمین بنجر، غیر آباد اور لاہور شہر کی آبادی سے بہت دور تھی۔آمد و رفت کا کوئی انتظام نہ تھا ارد گرد کا علاقہ سب چور ڈاکوؤں کا تھا۔آخر شاہ صاحب نے اس زمین کی فروخت اور آباد کرنے کا انتظام میرے سپرد کیا۔اور مجھے کہا کہ جس قدر زمین بکے اس کی قیمت کا پانچ فیصدی آپ کو ملے گا میں نے کوشش کی پیغام صلح اور دوسرے اخبارات میں اشتہار دیا خط و کتابت کے ذریعہ بھی کوشش کرتا رہا۔چنانچہ مولانا عبدالمجید سالک ، غلام رسول مہر ، مولوی عبدالحق ودیارتھی وغیرہ کچھ لوگوں نے میری وساطت سے زمین خریدی اس کے عوض شاہ صاحب نے مجھے دو کنال زمین مسلم ٹاؤن میں دیدی۔اب مسلم ٹاؤن میں مکان کوئی نہ بناتا تھا کیونکہ غیر آباد جگہ تھی۔ہر ایک شخص گھبرا تا تھا کہ وہاں جا کر کس طرح رہیں گے۔شاہ صاحب نے تجویز کی کہ جن اشخاص نے مسلم ٹاؤن میں زمین خریدی ہوئی ہے ان میں سے جو شخص پہلے مکان بنانا چاہے وہ جو ٹکڑا پسند کرے لے لے میں نے ارادہ ظاہر کیا کہ میں مکان بناؤں گا۔اور میں نے اپنی زمین کے عوض نہر کے کنارے دو کنال زمین لے لی مگر میرے پاس روپیہ کہاں تھا کہ مکان بناتا اس لئے شاہ صاحب کے ایماء سے جن لوگوں نے مسلم ٹاؤن میں زمین خریدی ہوئی تھی ان کی ایک کمیٹی بنائی گئی کہ وہ کچھ رقم ماہوار ادا کیا کریں اور قرعہ اندازی سے جس کے نام کی کمیٹی نکلے۔وہ روپیہ لے کر مکان بنائے اور مجھے اس کمیٹی کا سیکرٹری مقرر کیا گیا۔اتفاق سے پہلی کمیٹی سید غلام مصطفیٰ شاہ صاحب ہیڈ ماسٹر مسلم ہائی سکول کی اور دوسری میری نکلی۔مجھے ڈیڑھ ہزار روپیہ ملا۔جس سے مکان کی تعمیر شروع کی ۱۹۲۶ء میں تعمیر شروع کی اور ۱۹۲۷ء میں مکان خدا کے فضل سے رہائش کے قابل بن گیا۔ان دنوں میں احمد یہ بلڈنگس میں رہتا تھا۔مکان مکمل ہونے پر میں نے ارادہ کیا کہ اپنے مکان احمد یہ بستی میں چلا جاؤں۔احمد یہ بلڈنگس کے سب دوستوں نے مخالفت کی خاص کر مولوی محمد علی صاحب نے کہا کہ وہاں نہ جاؤ۔اکیلے وہاں کیسے رہو گے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک تو میں دفتر میں کام کرتا تھا۔دوم مسجد میں پانچ وقت نماز پڑھاتا تھا لیکن میں نے ارادہ کر لیا کہ اب اپنا مکان بنایا ہے تو وہیں جا کر رہوں گا چنانچہ میں احمد یہ بلڈنگکس سے احمد یہ بستی آ گیا۔سب لوگ کہتے تھے کہ تم نے ایک ماہ بھی وہاں نہیں ٹھہر نا احمد یہ بلڈنگس میں واپس آجاؤ گے۔وہاں دن کے وقت لوگ لو ٹ لیں گے مگر مجھ پر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور مجھے یہاں کوئی تکلیف نہیں ہوئی میں دن کو دفتر کام کرنے احمد یہ بلڈنگکس چلا جاتا۔گھر کے لوگ احمد یہ بستی میں رہتے شام کے قریب میں گھر آتا۔پہلے ایک سال تو میں سائیکل پر آتا جاتا رہا۔اس سے پہلے میں نے کبھی سائیکل نہ چلایا تھا بمشکل ایک سال سائیکل پر گزارہ کیا کئی دفعہ ٹکر ہوتے