اصحاب احمد (جلد 10) — Page 489
489 ایک دفعہ مہا راجہ صاحب کے دورہ کے موقع پر زمینداران علاقہ نے اپنی تکالیف بیان کیں تو اسی اثنائے دورہ میں مہاراجہ صاحب نے دربار میں منشی صاحب کو تحصیل پھگواڑہ کے علاقہ کے لئے آنریری مجسٹریٹ کے اختیارات تفویض کر دئیے جن کی توثیق کپورتھلہ جا کر کی گئی۔اس طرح مطالبہ پر دورہ میں اسی وقت اختیارات عطا کرنا خلاف معمول امر تھا۔جو منشی صاحب کے لئے باعث اعزاز و تکریم ہوا۔معمول یہ تھا کہ راجہ صاحب کی طرف سے یہ وعدہ کیا جاتا کہ اس بارہ میں غور کیا جائے گا۔اور پھر کپورتھلہ (صدر مقام ) سے احکام صادر کئے جاتے تھے۔آپ ریاستی اسمبلی کے بھی رکن رہے۔اور لوکل بورڈ کے نامزد ممبر بتیس سال تک نیز پنچایت کے پریذیڈنٹ اور انجمن زراعت کے سیکرٹری بھی۔ان اعزازات کے باوجود آپ نے کبھی اپنی قابلیت یا وجاہت کا اظہار نہیں کیا بلکہ آپ کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل اور حضور کی کتب کے مطالعہ کی برکت سے حاصل ہوا ہے۔اور یہ شہرت، عز و ہم سب ہی حضور کی غلامی کی وجہ سے مجھے عطاہوا ہے ورنہ میری ذاتی قابلیت دو جاہت کچھ نہیں۔بڑے بڑے رئیس بھی منشی حبیب الرحمن صاحب کو رئیس لکھتی ھے۔منشی صاحب کا کہنا تھا کہ مجھ سے بڑے جاگیر دار بھی اس ریاست میں موجود ہیں جن کے مقابل میں معمولی زمیندار ہوں مگر چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے اس لفظ سے خطاب کیا ہے اس لئے سب ہی میرے لئے یہ لفظ استعمال کرتے ہیں۔(۴) مطالعہ اور تبلیغ و تربیت کا شوق۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور سلسلہ احمدیہ کی کتب اور اخبارات ورسائل کی خرید کا آپ کو بہت شوق تھا۔آپ کے رہائشی کمرہ میں قرآن مجید ، تفاسیر ، احادیث کتب، کتب سلسلہ اور تاریخ وغیرہ علوم کی کتب کی لائبریری تھی۔حضرت اقدس بالخصوص آپ کے زیر مطالعہ رہتی تھیں۔بیان منشی تنظیم الرحمن صاحب بیانات منشی تنظیم الرحمن صاحب مصدقہ منجانب حضرت منشی ظفر احمد صاحب (احکم ۲۱ اگست ۱۹۳۵ صفحه ۹ کالم ۳۲) مضمون نشی کظیم الرحمن صاحب مصدقہ منجانب حضرت منشی ظفر احمد صاحب (حکم ۲ اگست ۱۹۳۵ صفحه ۸ کالم۲) یہاں یہ بھی رقم ہوا ہے کہ حضرت اقدس منشی صاحب کے لئے ”رئیس“ کا لفظ ان کے نام کے مکتوبات میں استعمال فرماتے تھے۔الحکم اور مکتوبات احمد یہ میں شائع شدہ مکتوبات میں جن میں سے ایک کا ایڈریس بھی درج ہے ”رئیس“ کا لفظ موجود نہیں کچھ مکتوبات ضائع ہو چکے ہیں ممکن ہے ان میں یہ لفظ درج ہو۔چونکہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب جیسے ثقہ بزرگ نے اس امر کی تصدیق کی ہے اس لئے لاز م یہ امرمبنی بر صداقت ہے البتہ حضرت اقدس کی بعض دیگر تحریرات میں اور غالبا حضور کے تتبع میں لفظ ”رئیس“ سلسلہ کے لٹریچر متواتر (باقی اگلے صفحہ پر )