اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 488 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 488

488 انتخاب ایک موزوں انتخاب ہوگا۔میں ذاتی علم سے جانتا ہوں کہ وہ ہر ذمہ داری کے کام کو نہایت عمدگی محنت اور دیانت سے کرنے کے لئے اہل ہیں۔آپ ریاست میں ایک قابل منشی نیز منتظم تسلیم کئے جاتے تھے اور ہر ایک قانونی استعداد کے مالک تھے۔حالانکہ آپ نے کبھی عدالتی کام نہیں کیا تھا۔اکثر تحصیل داران وغیرہ مقدمات و انتظامی معاملات کے بارے میں مشورہ کے لئے آپ کی طرف رجوع کرتے تھے۔اور پیچیدہ مقدمات کے فیصلے لکھنے کے لئے امثلہ آپ کے پاس بھجوا دیتے تھے۔یہاں تک کہ تحصیل پھگواڑہ سے تبادلہ کے بعد بھی یہ حکام آپ سے مشورہ کرتے تھے۔اس علاقہ کے اکثر پیچیدہ معاملات کی تحقیقات کے لئے آپ کو منصف مقرر کیا جاتا۔علاقہ بھر میں یہ شہرت تھی کہ آپ دیانت وانصاف کا دامن کبھی نہیں چھوڑتے۔حکام آپ کو سر بر اہ تحصیل داران کے نام سے موسوم کرتے تھے۔آپ کی انتہائی کوشش ہوتی تھی کہ فریقین میں مصالحت کرا دیں۔اور آپ ہمیشہ اس میں کامیاب ہو جاتے۔حکام حیران ہوتے کہ ہم نے تو ہر چند کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے اور معاملہ پیچیدہ تھا اس لئے آپ کے سپر د کیا تھا۔منشی صاحب فیصلہ میں ہر قانونی پہلو کو مد نظر رکھتے تھے اس لئے اپیل میں بھی فیصلہ قائم رکھا جاتا تھا۔آپ اس قدر محتاط تھے کہ فریقین مقدمہ کے ہاں سے پانی پینا بھی روا نہ سمجھتے تھے۔اور اپنے کھانے کا اپنی طرف سے انتظام ہوتا تھا۔الحکم کے فروری ۱۹۲۳ء اس دو کالم کے مضمون میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ راجہ صاحب کی پھگواڑہ میں آمد پر رعایا کے جذبات توقعات وضروریات ایک سپاسنامہ میں پیش کرنے کی عزت ” ہماری جماعت کے ایک مخلص اور ممتاز رکن حضرت منشی حبیب الرحمن رئیس حاجی پور کے حصہ میں آئی۔اس سے پہلے بھی یہ عزت انہیں بار ہامل چکی ہے۔نیز یہ کہ منشی صاحب ایک معزز خاندان کی یادگار ہیں۔اور ان کی قابلیت اور معاملہ فہمی اس سپاسنامہ سے ظاہر ہے۔حضرت عرفانی صاحب اور منشی صاحب نے راجہ صاحب کی انصاف و امن پسندی کی تعریف کی ہے اور بتایا ہے کہ حکومت انگلشیہ نے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریک پر توجہ نہ دی تھی۔کہ قانو نا یہ پابندی عائد کی جائے کہ ہر مذہب والا اپنے مذہب کے محاسن بیان کرے اور تہذیب اور نرمی سے باہر نہ جائے تا قوموں کے مابین مصالحت کی روح پھیلے لیکن راجہ صاحب نے ایک گزٹ کے ذریعہ ایسا حکم صادر کیا ہے۔(الحکم ۲۸ فروری ۱۹۲۴ء صفحه ۲) حضرت منشی صاحب راجہ صاحب کی آمد پر سپاسنامہ تیار کرتے تھے۔اور خود ہی پڑھتے تھے۔بیان منشی تنظیم الرحمن صاحب مصدقہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب (الحکم ۲۱ را گست ۱۹۳۵ صفحه ۹) بیان تنظیم الرحمن صاحب